ملفوظات (جلد 7) — Page 332
کیونکہ ساری بے نقط لکھی ہے۔میں نے اس کا جواب دیا کہ بے نقط لکھنا کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں۔یہ ایک قسم کا تکلف ہے اور تکلفات میں پڑنا لغو امر ہے۔مومنوں کی شان یہ ہےوَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ(المؤمنون:۴) یعنی مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔اگر بے نقط ہی کو معجزہ سمجھتےہو تو قرآن شریف میں بھی ایک بے نقط معجزہ ہے اور وہ یہ ہے لَا رَيْبَ فِيْهِ (البقرۃ:۳) اس میں رَیب کا کوئی لفظ نہیں۔یہی اس کا معجزہ ہے۔لَا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ (حٰمٓ السجدۃ:۴۳) اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہوتی۔میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ(الانعام:۶۰) یہ ایک ناپیدا کنار سمندر ہے اپنے حقائق اور معارف کے لحاظ سے اور اپنی فصاحت و بلاغت کے رنگ میں۔اگر بشر کا کلام ہوتا تو سطحی خیالات کا نمونہ دکھایا جاتا۔مگر یہ طرز ہی اور ہے جو بشری طرزوں سے الگ اور ممتاز ہے۔اس میں باوجود اعلیٰ درجہ کی بلند پروازی کے نمود و نمائش بالکل نہیں۔خود فرمایا کہ امیوں کے لیے ہے۔اور پھر اور لطف یہ ہے کہ ظاہر تو امیوں کے لیے ہے اور باطن ہر ایک کے سیراب کرنے والا ہے۔سورۃ الرحمٰن میں تکرار کی حکمت خواجہ صاحب۱ نے پوچھا کہ سورہ رحمان میں اعادہ کیوں ہوا ہے؟ فرمایا۔اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہوجاتا ہے۔اسی لیے فرمایا وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ (الـقمر:۱۸) یعنی بے شک ہم نے یاد کرنے کے لیے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ساری چیزوں میں ایک حُسن ہے تو کیا یہ ضروری نہیں کہ اس کے کلام میں بھی حُسن ہو؟ یہ اس کا ایک حُسن ہے۔اگر قرآن مجید ژولیدہ بیان ہوتا تو اس سے کیا فائدہ ہوتا؟ طبائع کو اس کی طرف توجہ ہی نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں عجیب عجیب قسم کی مخلوق دیکھی جاتی ہے