ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 331

میں سخت افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ ان لوگوں کی حالت مسخ ہوگئی ہے۔یہی توفّی کا لفظ یوسف علیہ السلام کے لیے ہو تو موت کے معنے کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو تو موت کے معنے کریں لیکن مسیح کی نسبت ہو تو اس کے معنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا ہو۔کس قدر جرأت اور دلیری ہے! کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرا بھی عزت ان کے دل میں نہیں؟ اگروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی یہی معنے کرتے تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ کوئی خصوصیت پیدا نہیں کرتے۔مگر اب تو یہ خاص طور پر مسیح ہی کے ساتھ اس امر کو مخصوص کرتے ہیں۔حالانکہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کا کوئی بھی قائل نہیں۔نہ یہودی قائل نہ عیسائی۔یہودی تو رفع روحانی کے بھی قائل نہیں۔عیسائی جلالی جسم کے قائل ہیں گو وہ اس میں جھوٹے ہیںاس لیے انہوں نے جب مسیح کو دیکھا تو وہ وہی عنصری جسم تھا کیونکہ اس میں زخم موجود تھے اور خود انہوں نے ہاتھ ڈال کر دیکھا۔باایں عیسائیوں نے سمجھ لیا کہ جسم عنصری آسمان پر نہیں جاتا۔اسی لیے انہوں نے جلالی جسم تجویز کیا۔حضرت مسیح کی وفات کا مسئلہ بہت صاف تھا اور اسکے لیے خود مسیح کا اپنا اقرار اللہ تعالیٰ کا قول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم دید شہادت، صحابہ کا اجماع کافی دلائل تھے مگر انہوں نے ذرا بھی پروا نہ کی۔اور سچ پوچھو تو یہ یہودیوں سے بھی گئے گذرے ہوئے اس لیے کہ وہ تو ایک جماعت بنا کر مسیح کے پاس گئے اور ان سے ان کے دعاوی کی تحقیق کی۔مگر یہ کب میرے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا؟۱ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) قرآن کریم کا اعجاز مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے اپنا بے نقط عربی قصیدہ سنایا۔اسی تحریک سے فرمایا۔ایک پادری نے مجھ پر اعتراض کیا کہ فیضی کی تفسیر اعلیٰ درجہ کی فصاحت و بلاغت میں ہے ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۸،۹