ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 326

وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ(اٰلِ عـمران:۸۶) اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہو سکتا۔اور یہ نرا دعویٰ نہیں۔تاثیرات ظاہر کر رہی ہیں۔اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کرلے۔اور ہم نے ہمیشہ ایسی دعوت کی ہے کوئی مقابلہ پر نہیں آیا۔قرآن شریف کے انوار و برکات سوال۔اگر اسلام کے سوا کوئی دوسرا مذہب اپنے اندر انوار و برکات نہ رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول نہیں ہو سکتا تھا تو پھر جزیہ کیوں رکھا تھا؟ جواب۔یہ تو ایک الگ امر ہے۔اس سے یہ تو نہیں ثابت ہوتا کہ دوسرے مذاہب سچے تھے۔ہاں اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام جبر سے نہیں پھیلایا گیا۔ان لوگوں کو سوچنے اور غور کرنے کا موقع دیا گیا ہے اور جیسا فرمایا تھا لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرۃ:۲۵۷) اس پر عمل کیا گیا۔مجھے افسوس ہے کہ یہ تو قابل قدر بات تھی جس پر آپ اعتراض کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء:۱۰۸) یعنی اے رسول! ہم نے تجھ کو رحمۃ للعالمین کر کے بھیجا ہے۔پس یہ آپ کی رحمت کا ایک نمونہ تھا۔قرآن شریف میں اگر تدبر کریں تو اس کی روشن حقیقت آپ کو معلوم ہو جائے گی۔توریت میں کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ورنہ چاہیے تھا کہ ان میں اولیاء اللہ اور صلحاء ہوتے۔یہودی۔چونکہ توریت پر عمل نہیں رہا اس لیے ولی اور صلحاء نہیں ہوتے۔حضرت اقدس۔اگر توریت میں کوئی تاثیر باقی ہوتی تو اسے ترک ہی کیوں کرتے؟ اگر آپ یہ کہیں کہ بعض نے ترک کیا ہے تو پھر بھی اعتراض بدستور قائم ہے کہ جنہوں نے ترک نہیں کیا ان پر جو اثر ہوا ہے وہ پیش کرو۔اور اگر کُل نے ہی ترک کر دیا ہے تو یہ ترک تاثیر کو باطل کرتا ہے۔ہم قرآن شریف کے لیے یہی نہیں مانتے۔یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن شریف کو چھوڑ دیا