ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 325

سمجھتے ہیں۔اور شرک خفی یہ ہے کہ انسان کسی شے کی تعظیم اسی طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کرتا ہے یا کرنی چاہیے یا کسی شے سے اللہ تعالیٰ کی طرح محبت کرے۔یا اس سے خوف کرے یا اس پر توکل کرے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ حقیقت کامل طور پر توریت کے ماننے والوں میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں جو کچھ ان سے سر زد ہوا وہ آپ کو بھی معلوم ہوگا۔اگر توریت کافی ہوتی تو چاہیے تھا کہ یہودی اپنے نفوس کو مزکی کرتے مگر ان کا تزکیہ نہ ہوا۔وہ نہایت قسی القلب اور گستاخ ہوتے گئے۔یہ تاثیر قرآن شریف ہی میں ہے کہ وہ انسان کے دل پر بشرطیکہ اس سے صوری اورمعنوی اعراض نہ کیا جائے۔ایک خاص اثر ڈالتا ہے اور اس کے نمونے ہر زمانہ میں موجود رہتے ہیں۔چنانچہ اب بھی موجو دہے۔قرآن شریف نے فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰلِ عـمران:۳۲) یعنی اے رسول تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع انسان کو محبوب الٰہی کے مقام تک پہنچا دیتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کامل موحد کا نمونہ تھے۔پھر اگر یہودی توحید کے ماننے والے ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ایسے موحد سے دور رہتے۔انہیں یاد رکھنا چاہیے تھا کہ خدا تعالیٰ کے خاتم الرسل کا انکار اور عناد نہایت خطرناک امر ہے۔مگر انہوںنے پروا نہیں کی اور باوجودیکہ خود ان کی کتاب میں آپ کی پیشگوئی موجود تھی مگر انکار کر دیا۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کیا ہوسکتی ہے قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ (الانعام:۴۴)۔سوائے اسلام کے کسی مذہب میں نجات نہیں ہے۔سوال۔کیا کسی اور مذہب میں رہ کر انسان نجات نہیں پاسکتا؟ جواب۔اس کا جواب خود قرآن شریف نفی میں دیتا ہے۔اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (اٰلِ عـمران:۲۰)