ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 324

قرآن دنیا سے کس طرح اٹھایا جائے گا ترک۔یہ بھی تو آیا ہے کہ مسیح کے زمانہ میں قرآن اٹھایا جائے گا۔اب کہاں اٹھایا گیا ہے؟ حضرت اقدس۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایک صحابی نے یہ پوچھا تھا کہ اس وقت قرآن شریف کیسے اٹھایا جاوے گا؟ آپؐنے اس کو یہ جواب دیا تھا کہ میں تو تجھے عقلمند سمجھتا تھا۔یہی جواب میرا ہے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا۔اس کی حمایت اور حمیت کے لیے کچھ بھی سعی نہیں ہوتی۔قرآن شریف سے صوری اور معنوی اعراض کیا گیا ہے اس کے حقائق اور معارف اور اس کی تعلیم سے مسلمان بالکل بے خبر ہو رہے ہیں۔اَور کس طرح قرآن اٹھایا جاوے گا؟ توحید اور شرک کی حقیقت (ترک صاحب تو دو سوالوں کے بعد خاموش ہوگئے۔پھر یہودی صاحب نے اپنے سوالات پیش کرنے شروع کئے۔) یہودی۔یہودیوں میں بھی تو توحید موجود ہے۔اسلام اس سے بڑھ کر کیا پیش کرتا ہے؟ حضرت اقدس۔یہودیوں میں توحید تو نہیں ہے۔ہاں قشر التوحید بیشک ہے اور نرا قشر کسی کام کا نہیں ہو سکتا۔توحید کے مراتب ہوتے ہیں۔بغیر ان کے توحید کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔نرا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہی کہہ دینا کافی نہیں یہ تو شیطان بھی کہہ دیتا ہے۔جب تک عملی طور پر لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کی حقیقت انسان کے وجود میں متحقق نہ ہو کچھ نہیں۔یہودیوں میں یہ بات کہاں ہے؟ آپ ہی بتا دیں۔توحید کا ابتدائی مرحلہ اور مقام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف کوئی امر انسان سے سر زد نہ ہو اور کوئی فعل اس کا اللہ تعالیٰ کی محبت کے منافی نہ ہو۔گویا اللہ تعالیٰ ہی کی محبت اور اطاعت میں محو اور فنا ہوجاوے۔اسی واسطے اس کے معنے یہ ہیں لَا مَعْبُوْدَ لِیْ وَ لَا مَحْبُوْبَ لِیْ وَ لَا مُطَاعَ لِیْ اِلَّا اللہُ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی میرا معبود ہے اور نہ کوئی محبوب ہے اور نہ کوئی واجب الاطاعت ہے۔یاد رکھو شرک کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک شرک جلی کہلاتا ہے دوسرا شرک خفی۔شرک جلی کی مثال تو عام طور پر یہی ہے جیسے یہ بت پرست لوگ بتوں، درختوں یا اَور اشیاء کو معبود