ملفوظات (جلد 7) — Page 319
ثواب نہیں بلکہ عذاب ہوگا۔کیونکہ اس نے اپنی حیثیت اور طاقت کے موافق قدم نہیں بڑھایا بلکہ گونہ بخل کیا ہے۔غرض یہ ہے کہ جس قسم کا انسان ہو اُسے اپنی طاقت اور قدرت کے موافق قدم بڑھانا چاہیے۔ہر شخص اپنی معرفت کے لحاظ سے پوچھا جائے گا۔جس قدر کسی کی معرفت بڑھی ہوئی ہوگی اسی قدر وہ زیادہ جواب دہ ہوگا۔اسی لیے ذوالنون نے زکوٰۃ کا وہ نکتہ سنایا یہ خلافِ شریعت نہیں ہے۔اس کی شریعت کا یہی اقتضا تھا۔وہ جانتا تھا کہ مال رکھنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اسے خدمت دین اور ہمدردی نوع انسان میں صرف کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آخری وقت ایک مہر تھی۔آپ نے اسے نکلوا دیا۔اصل یہی ہے کہ ہر امر کے مراتب ہوتے ہیں۔بعض آدمی شبہ کریں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غنی کہلاتے تھے۔انہوں نے کیوں مال جمع کیا؟ یہ ایک بیہودہ شبہ ہے۔اس لیے کہ وہ مہاجن نہ تھے۔خدا بہتر جانتا ہے کہ اس غنی کے کیا معنے ہیں۔میں اتنا جانتا ہوں کہ جومال خدمت دین کے لیے وقف ہو وہ اس کا نہیں ہے۔اس نیت اور غرض سے جو شخص رکھتا ہے وہ اپنے لیے جمع نہیں کرتا وہ خدا کا مال ہے لیکن جو اپنے اغراض نفسانی اور دنیاوی کو ملحوظ رکھ کر جمع کرتا جاتا ہے۔وہ مال داغ لگانے کے لیے ہے جس سے آخر اس کو داغ دیا جائے گا۔وہ کام کرو جو اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور سبق ہو بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتاہے کہ اولاد کے لیے کچھ مال چھوڑنا چاہیے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے۔مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ اس کا فکر کریں کہ اولاد صالح ہو طالح نہ ہو۔مگر یہ وہم بھی نہیں آتا اور نہ اس کی پروا کی جاتی ہے۔بعض اوقات ایسے لوگ اولاد کے لیے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پروا نہیں کرتے۔وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بد اطواریوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع