ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 318

زکوٰۃ بھی دیا کرو۔اس نے کہا میرے پاس تو مال ہی نہیں۔زکوٰۃ کس چیز کی دوں؟ صوفی بولا چالیس حدیثیں لوگوں کو سنایا کرو تو ایک پر آپ بھی عمل کر لیا کرو۔انسانوں کے تین طبقات فرمایا۔اسلام میں انسان کے تین طبقے رکھے ہیں۔ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔مُقْتَصِدٌ۔سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ۔ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖتو وہ ہوتے ہیں جو نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہوں اور ابتدائی درجے پر ہوتے ہیں۔جہاں تک ان سے ممکن ہوتا ہے وہ سعی کرتے ہیں کہ اس حالت سے نجات پائیں۔مقتصد وہ ہوتے ہیں جن کو میانہ رو کہتے ہیں۔ایک درجہ تک وہ نفس امارہ سے نجات پا جاتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی کبھی اس کا حملہ ان پر ہوتا ہے اور وہ اس حملہ کے ساتھ ہی نادم بھی ہوتے ہیں۔پورے طور پر ابھی نجات نہیں پائی ہوتی۔مگر سابق بالخیرات وہ ہوتے ہیں کہ ان سے نیکیاں ہی سر زد ہوتی ہیں اور وہ سب سے بڑھ جاتے ہیں۔ان کے حرکات و سکنات طبعی طور پر اس قسم کے ہو جاتے ہیں کہ ان سے افعال حسنہ ہی کا صدور ہوتا ہے۔گویا ان کے نفس امارہ پر بالکل موت آجاتی ہے اور وہ مطمئنہ حالت میں ہوتے ہیں۔ان سے اس طرح پر نیکیاں عمل میں آتی ہیں گویا وہ ایک معمولی امر ہے۔اس لیے ان کی نظرمیں بعض اوقات وہ امر بھی گناہ ہوتا ہے جو اس حد تک دوسرے اس کو نیکی ہی سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی معرفت اور بصیرت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے جو صوفی کہتے ہیں حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ۔مثلاً چندہ کی حالت پر ہی لحاظ کرو۔ایک آدمی غریب اور دو آنہ روز کا مزدور ہے اور ایک دوسرا آدمی دو لاکھ روپیہ کی حیثیت رکھتا ہے اور ہزاروں کی روزانہ آمدنی ہے۔وہ دو آنہ کا مزدور بھی اس میں دو پیسہ دیتا ہے اور وہ لاکھ پتی ہزاروں کی آمدنی والا دو روپیہ دیتا ہے۔تو اگرچہ اس نے اس مزدور سے زیادہ دیا ہے مگر اصل یہ ہے کہ اس مزدور کو تو ثواب ملے گا مگر اس دولت مند لاکھ پتی کو