ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 314

کسی مصیبت اور مشکل میں مدد دینا تو بڑی بات ہے۔جو لوگ غرباء کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش نہیں آتے بلکہ ان کو حقیر سمجھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہ خود اس مصیبت میں مبتلا نہ ہو جاویں۔اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں۔اور اس خدا داد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔بہت سی سعادتیں غرباء کے ہاتھ میں ہیں خوب یاد رکھو کہ امیری کیا ہے؟ امیری ایک زہر کھانا ہے۔اس کے اثر سے وہی بچ سکتا ہے جو شفقت علیٰ خلق اللہ کے تریاق کو استعمال کرے اور تکبر نہ کرے لیکن اگر وہ اس کی شیخی اور گھمنڈ میں آتا ہے تو نتیجہ ہلاکت ہے۔ایک پیاسا ہو اور پاس کنواں بھی ہو لیکن کمزور ہو اور غریب ہو اور پاس ایک متمول انسان ہو تو وہ محض اس خیال سے کہ اس کو پانی پلانے سے میری عزت جاتی رہے گی اس نیکی سے محروم رہ جائے گا۔اس نخوت کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہی کہ نیکی سے محروم رہا اور خد اتعالیٰ کے غضب کے نیچے آیا۔پھر اس سے کیا فائدہ پہنچا۔یہ زہر ہوا یا کیا؟ وہ نادان ہے سمجھتا نہیں کہ اس نے زہر کھائی ہے لیکن تھوڑے دنوں کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ اس نے اپنا اثر کر لیا ہے اور وہ ہلاک کر دے گی۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ بہت سی سعادت غرباء کے ہاتھ میں ہے۔اس لیے انہیں امیروں کی امیری اور تموّل پر رشک نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ انہیں وہ دولت ملی ہے جو ان کے پاس نہیں۔ایک غریب آدمی بے جاظلم ، تکبر، خود پسندی، دوسروں کو ایذا پہنچانے، اتلافِ حقوق وغیرہ بہت سی برائیوں سے مفت میں بچ جائے گا۔کیونکہ وہ جھوٹی شیخی اور خود پسندی جو ان باتوں پر اسے مجبور کرتی ہے اس میں نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مامور اور مرسل آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی جماعت میں غرباء داخل ہوتے ہیں۔اس لیے کہ ان میں تکبر نہیں ہوتا۔دولت مندوں کو یہی خیال اور فکر رہتا ہے کہ اگر ہم اس کے خادم ہوگئے تو لوگ کہیں گے کہ اتنا بڑا آدمی ہو کر فلاں شخص کا مرید ہوگیا ہے اور اگر ہو بھی جاوے تب بھی وہ بہت سی سعادتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔الّا ماشاء اللہ۔