ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 302

مصیبت ہوگی کہ اس امت کی نسبت باوجود خیر الامم ہونے کے یہ یقین کر لیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل شرف مکالمہ سے محروم ہے۔اور خواہ ساری عمر کوئی مجاہدہ کرتا رہے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا (نعوذ باللہ)۔جیسے کہہ دیا جاوے کہ خواہ ہزار ہاتھ تک کھودتے چلو مگر پانی نہیں ملے گا۔اگر یہ سچ ہے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں تو پھر مجاہدہ اور دعا کی کیا حاجت ہے؟ کیونکہ انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ جس کو ممکن الحصول سمجھتا ہے اسے تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے سعی کرتا ہے اور اگر اسے یہ خیال اور یقین نہ ہو تو وہ مجاہدہ اور سعی کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔جیسے ہُما یا عنقا کی کوئی تلاش نہیں کرتا۔اس لیے کہ سب جانتے ہیں کہ یہ چیزیں ناممکن الحصول ہیں۔پس اسی طرح جب یہ یقین کر لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملنے کا ہی نہیں اور خوارق اب دیئے ہی نہیں جا سکتے تو پھر مجاہدہ اور دعا جو اس کے لیے ضروری ہیں محض بیکار ہوں گے اور اس کے لیے کوئی جرأت نہ کرے گا اور اس امت کے لیے نعوذ باللہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسـرآءیل :۷۳) صادق آئے گا۔اور اس سے خاتمہ کا بھی پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسا ہوگا کیونکہ اس میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ جہنمی زندگی ہے۔پھر آخرت میں بھی جہنم ہی ہوگا اور اسلام ایک جھوٹا مذہب ٹھیرے گا اور نعوذ باللہ خدا نے بھی اس امت کو دھوکا دیا کہ خیرالامت بنا کر پھر کچھ بھی اسے نہ دیا۔اس قسم کا عقیدہ رکھنا ہی کچھ کم بد قسمتی اور اسلام کی ہتک نہ تھی کہ اس پر دوسری مصیبت یہ آئی کہ اس کے لیے وجوہات اور دلائل پیدا کرنے لگے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ یہ دروازہ مکالمات و مخاطبات کا اس وجہ سے بند ہوگیا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ(الاحزاب:۴۱) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں اس لیے آپ کے بعد یہ فیض اور فضل بند ہوگیا۔مگر ان کی عقل اور علم پر افسوس آتا ہے کہ یہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر ختم نبوت کے ساتھ ہی اگر معرفت اوربصیرت کے دروازے بھی بند ہوگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (معاذ اللہ) خاتم النبیین تو کجا نبی بھی ثابت نہ ہوں گے۔کیونکہ نبی کی آمد اور بعثت تو اس غرض کے لیے ہوتی ہے کہ تااللہ تعالیٰ پر ایک یقین اور بصیرت پیدا ہو