ملفوظات (جلد 7) — Page 298
پر اس سے اپنی بریت ظاہر کریں گے اور آخر یہ کہیں گے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المآئدۃ:۱۱۸) یعنی جب تک میں ان میں زندہ رہا تھا میں نے ہرگز نہیں کہا۔ہاں جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تُو آپ ان کا نگران تھا۔اس سے پہلے مَا دُمْتُ فِيْهِمْ (المآئدۃ:۱۱۸) کا لفظ صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جب تک حضرت مسیح زندہ رہے ان کی قوم میں یہ بگاڑ پیدا نہیں ہوا۔ساری ضلالت بعد وفات ہوئی ہے۔اگر حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ عیسائی نہیں بگڑے بلکہ حق پر ہیں۔پر غور کر کے بتاؤ اسلام کی حقانیت پر یہ کس قدر خطرناک حملہ ہوگا۔کیونکہ جب وہ ایک سچا مذہب موجود ہے اور اس میں کوئی خرابی ہی پیدا نہیں ہوئی تو پھر جو کچھ وہ کہتے ہیں مان لینا چاہیے۔مگر نہیں خدا تعالیٰ کا کلام حق ہے اور یہی سچ ہے کہ وہ مر گئے اور عیسائی مذہب بھی ان کے ساتھ ہی مر گیا اور اس میں کوئی روح حق اور حقیقت کی نہیں رہی۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ عیسائیوں کے بگڑنے کا اقرار اپنی موت کے بعد کرتے ہیں۔اگر انہوں نے آنا تھا تو وہ یہ جواب نہ دیتے ورنہ یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حضور جھوٹ سمجھا جاوے گا اور رب العرش العظیم کے حضور حلف دروغی ہوگی۔کیونکہ اس صورت میں تو انہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں گیا اور جا کر ان کی صلیبوں کو توڑا اور ان میں پھر توحید قائم کی وغیرہ وغیرہ۔غرض یہ میرا دعویٰ جو اللہ تعالیٰ کے ایماء اور حکم صریح سے کیا گیا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے عظیم الشان مصالح اور حکمت سے ایسا ہی چاہا ہے تاکہ مسیح کی عظمت کو توڑا جاوے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہے۔یہودی خدا تعالیٰ کی برگزیدہ قوم کہلاتے تھے۔لیکن جب انہوں نے شریعت کی بے حرمتی کی اور وہ حد سے زیادہ بگڑ گئے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت نے نہ چاہا کہ ان میں نبوت کا سلسلہ رہےا ور نبوت کو خاندان بنی اسمٰعیل میں منتقل کر کے ختم کر دیا جیسا کہ خود حضرت عیسٰیؑ نے بھی باغ والی تمثیل میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔یہودیوں کی اس شوخی اور گستاخی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر ذلت کی مار ماری گئی۔اب وہ ہر سلطنت کے ماتحت ذلیل ہیں بلکہ بعض سلطنتوں سے کئی دفعہ نکالے گئے ہیں۔اب جبکہ یہود پر ذلت پڑ چکی اور نبوت ان کے خاندان سے منتقل ہوچکی۔تو کیا یہ