ملفوظات (جلد 7) — Page 297
ساری امیدوں کا خون ہوجاوے اور وہ تو گویا زندہ ہی مر جاویں۔مگر نہیں ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہر شخص پر وہی انعام کر سکتا ہے جو اس نے اپنے برگزیدہ بندوں پر کیے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اس قسم کا دل اور اخلاص لے کر اس کے حضور آؤ۔مسیح کا نام دیئے جانے کی حکمت میں نے از خود کوئی دعویٰ نہیں کیا۔میں اپنی خلوت کو پسند کرتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے مصالح نے ایسا ہی چاہا اور اس نے خود مجھے باہر نکالا۔چونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ جب کسی شخص کو اس کی مناسب عزت سے بڑھ کر عظمت دی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس عظمت کا دشمن ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اس کی توحید کے خلاف ہے۔اسی طرح پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے وہ عظمت تجویز کر دی گئی تھی جس کے وہ مستحق نہ تھے۔یہاں تک کہ انہیں خدا بنا دیا گیا اور خانہ خدا خالی ہوگیا۔عیسائیوں سے پوچھ کر دیکھ لو وہ یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح ہی خود خدا ہے۔اب جس انسان کو اس قدر عظمت دی گئی اور اسے خدا بنایا گیا (نعوذ باللہ ) اور اس طرح پر خد اکا پہلو گم کر دیا گیا تو کیا خدا تعالیٰ کی غیرت مخلوق کو اس انسان پرستی سے نجات دینے کے لیے جوش میں نہ آتی؟ پس اس تقاضا کے موافق اس نے مجھے مسیح کر کے بھیجا تاکہ دنیا پر ظاہر ہوجاوے کہ مسیح بجز ایک عاجز انسان کے اور کچھ نہ تھا۔خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس کفر کی اصلاح کرے اور اس کے لیے یہی راہ اختیار کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کو اسی نام سے بھیج دیا تا ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اظہار ہو اور دوسری طرف مسیح کی حقیقت معلوم ہو۔یہ ایسی موٹی بات ہے کہ معمولی عقل کا انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔دیکھو اگر ایک بڑے آدمی کو معمولی اردلی سے مشابہت دی جاوے تو وہ چِڑتا ہے یا نہیں؟ پھر کیا خدا تعالیٰ میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ ایک عاجز انسان کو اس کی الوہیت کے عرش پر بٹھایا جاوے اور مخلوق تباہ ہو اور وہ انسداد نہ کرے؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسیح نے ہرگز ایسا دعویٰ نہیں کیا کہ میں خدا ہوں۔اگر وہ ایسا دعویٰ کرے تو میں جہنم میں ڈال دوں۔ایک مقام پر یہ بھی فرمایا ہے کہ مسیح سے اس کا جواب طلب ہوگا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو تو حضرت مسیح اس مقام