ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 21

ایسے لوگ یاد رکھو کہ مخنث اور نا مرد ہوتے ہیں۔یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی ناسمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے۔مگر اس کے اس فعل کو کوئی بُرا نہیں سمجھتا۔پس یاد رکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سود مند نہیں۔جب کوئی شخص شدتِ پیاس سے مرنے کے قریب ہوجاوے یا شدتِ بھوک سے مرنے تک پہنچ جاوے تو کیا اس وقت ایک قطرہ پانی یا ایک دانہ کھانے کا اس کو موت سے بچا لے گا؟ ہرگز نہیں۔جس طرح اس بدن کو بچانے کے واسطے کافی خوراک اور کافی پانی بہم پہنچانے کے سوائے مفر نہیں۔اسی طرح پورے جہنم سے تھوڑی سی نیکی سے تم بھی بچ نہیں سکتے۔پس اس دھوکہ میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے۔ہدایت بھی ایک موت ہے جو شخص یہ موت اپنے اوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے اور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطہ فرمایا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ(المآئدۃ:۱۰۶) یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔اپنے امراض کو دور کرو دوسروں کا فکر مت کرو۔ہاں رات کو اپنے آپ کو درست کرو اور دن کو دوسروں کو بھی کچھ ہدایت کر دیا کرو۔خدا تعالیٰ تمہیں بخشے اور تمہارے گناہوں سے تمہیں مخلصی دے اور تمہاری کمزوریوں کو تم سے دور کرے اور اعمالِ صالح اور نیکی میں ترقی کرنے کی توفیق دیوے۔آمین۱ ۲؍نومبر ۱۹۰۴ء (بمقام سیالکوٹ) چونکہ آج کا دن آخری دن تھا جو حضرت نے یہاں قیام فرمانا تھا۔چنانچہ کئی بار بیعت ہوئی۔بیعت کے بعد حسب معمول حضرت اقدس مندرجہ ذیل نصیحت ان لوگوں کو کرتے رہے۔بیعت کی غرض اس بیعت کی اصل غرض یہ ہے کہ خدا کی محبت میں ذوق و شوق پیدا ہو اور گناہوں سے نفرت پیدا ہو کر اس کی جگہ نیکیاں پیدا ہوں۔جو شخص اس غرض کو ملحوظ نہیں رکھتا اور بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر کوئی تبدیلی کرنے کے لیے مجاہدہ اور کوشش نہیں