ملفوظات (جلد 7) — Page 281
فتور آجاتا ہے پھر بَعِلَّت اس فتور کے انسان نہیں سمجھ سکتا کہ میں خواب میں ہوں یا بیداری میں۔لیکن ایک اور حالت ہوتی ہے کہ جس سے اربابِ طلب اور اصحاب سلوک کبھی کبھی متمتّع اور محظوظ ہوجاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بباعث دوام مراقبہ و حضور و استیلاء شوق و غلبہ محبت ایک حالت غیبت حواس ان پر وارد ہو جاتی ہے جس کا یہ باعث نہیں ہوتا کہ دماغ پر رطوبت مستولیٰ ہو بلکہ اس کا باعث صرف ذکر اور شہود کا استیلاء ہوتا ہے۔اس حالت میں چونکہ تعطّل حواس بہت کم ہوتا ہے۔اس جہت سے انسان اس بات پر متنبہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بیدار ہے خواب میں نہیں اور نیز اپنے مکان اور اس کے تمام وضع پر بھی اطلاع رکھتا ہے۔یعنی جس مکان میں ہے اس مکان کو برابر شناخت کرتا ہے۔حتی کہ لوگوں کی آواز بھی سنتا ہے اور کل مکان کو بچشم خود دیکھتا ہے۔صرف کسی قدر بجذبہ غیبی غَیبتِ حس ہوتی ہے اور جو انسان خواب کی حالت میں اپنی رؤیا میں اپنے تئیں بیدار معلوم کرتا ہے۔یہ علم بذریعہ حواس نہیں بلکہ اس علم کا منشا فقط روح ہے۔دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ فناءِ اَتم اَعْنِیْ غَایَۃُ الْمَوَاجِّ وَ نَـہَایَۃُ الْوِصَالِ میں علم حق رہتا ہے یا نہیں۔اوّل سمجھنا چاہیے کہ فناءِ اَتم عین وصال کا نام نہیں بلکہ امارات اور آثار وصال میں سے ہے کیونکہ فناءِ اَتم مراد اس حالت سے ہے کہ طالب حق خلق اور ارادت اور نفس سے بکلی باہر ہو جاوے اور فعل اور ارادت الٰہی میں بکلی کھویا جاوے۔یہاں تک کہ اسی کے ساتھ دیکھتا ہو اور اسی کے ساتھ سنتا ہو اور اسی کے ساتھ پکڑتا ہو اور اسی کے ساتھ چھوڑتاہو۔پس یہ تمام آثار وصال کے ہیں نہ عین وصال کے اور عین وصال ایک بیچوں اور بیچگوں نور ہے کہ جس کو اہل وصال شناخت کرتے ہیں مگر بیان نہیں کر سکتے۔خلاصہ کلام یہ کہ جب طالب کمال وصال کا خدا کے لیے اپنے تمام وجود سے الگ ہوجاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لیے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ خدا کے لیے ہوجاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقا کو مستلزم ہے۔پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اور غیر اللہ کا وجود اس کی آنکھ میں باقی نہیں رہتا۔یہاں تک کہ غلبہ شہود ہستی الٰہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے۔پس یہ مقام عبودیت و فناءِ اَتم ہے جو