ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 280

بات کے لیے کہ مضمون خواب حیّزِ قوت سے حدّ ِفعل میں آوے بہت سی محنتیں درکار ہیں۔خواب کے واقعات اس پانی سے مشابہ ہیں کہ جو ہزاروں من مٹی کے نیچے زمین کی تہہ تک میں واقع ہے جس کے وجود میں تو کچھ شک نہیں لیکن بہت سی جانکنی اور محنت چاہیے تا وہ مٹی پانی کے اوپر سے بکلی دور ہوجائے اور نیچے سے پانی شیریں اور مصفّا نکل آوے۔ہمت مرداں مدد خدا۔صدق اور وفا سے خدا کو طلب کرنا موجب فتح یابی ہے وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰)۔؎ گویند سنگ لعل شود در مقامِ صبر آرے شود و لیک بخون جگر شود گرچہ وصالش نہ بکوشش دہند ہر قدر اے دل کہ توانی بکوش آپ کی ملاقات کے لیے میں بھی چاہتا ہوں مگر وقت مناسب کا منتظر ہوں۔بے وقت حج بھی فائدہ نہیں کرتا۔اکثر حاجی جو بڑی خوشی سے حج کرنے کو جاتے ہیں اور پھر دل سخت ہو کر آتے ہیں اس کا یہی باعث ہے کہ انہوں نے بے وقت بیت اللہ کی زیارت کی اور بجز ایک کوٹھہ کے اور کچھ نہ دیکھا اور اکثر مجاورین کو صدق اور صلاح پر نہ پایا۔دل سخت ہوگیا۔علیٰ ہذا القیاس ملاقات جسمانی سے بھی کئی ایک قسم کے ابتلا پیش آجاتےہیں۔الّا ماشاء اللہ۔آپ کے سوالات کا جواب جو اس وقت میرے خیال میں آتا ہے مختصر طور پر عرض کیا جاتا ہے۔آپ نے پہلے یہ سوال کیا ہے کہ پورا پورا علم جیسا بیداری میں ہوتا ہے خواب میں کیوں نہیں ہوتا اور خواب کا دیکھنے والا اپنی خواب کو خواب کیوں نہیں سمجھتا؟ سو آپ پر واضح ہو کہ خواب اس حالت کا نام ہے کہ جب بباعث غلبہ رطوبت مزاجی کے جو دماغ پر طاری ہوتی ہے حواس ظاہری و باطنی اپنے کاروبار معمولی سے معطل ہوجاتے ہیں۔پس جب خواب کو تعطّل حواس لازم ہے تو ناچار جو علم اور امتیاز اور تیقّظ بذریعہ حواس انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ حالت خواب میں بباعث تعطّل حواس نہیں رہتا کیونکہ جب حواس بوجہ غلبہ رطوبت مزاجی معطّل ہوجاتے ہیں تو بالضرورت اس فعل میں بھی