ملفوظات (جلد 7) — Page 279
ا للہ تعالیٰ اپنے ماموروں اور مرسلوں کی دعاؤں کی وجہ سے انہیں شفا دے دیتا ہے۔اس قسم کا احیاء ہم مانتے ہیں اور یہاں بھی ہوا ہے اور اس کے سوا دوسری حیات روحانی حیات ہے۔غرض یہ دو قسم کا احیاء موتیٰ ہم مانتے ہیں۔روحانی طور پر مسیح کا اثر بہت کم ہوا۔کیونکہ یہودیوں نے مانا نہیں اور جنہوں نے مانا ان کی تکمیل نہ ہوئی۔ایک نے لعنت بھیج دی۔دوسرے نے پکڑوا دیا اور باقی بھاگ گئے۔ہاں جسمانی طور پر بعض کےلیے دعائیں کیں اور وہ مریض اچھے ہوگئے اب بھی ہو رہے ہیں۔غرض ہماری اصل غرض اور مقصد اور تعلیم وہ ہے جس کا میں ذکر کر آیا ہوں۔یہ امور وفاتِ مسیح وغیرہ ہماری راہ میں آگئے جو مشرکین کا غلبہ توڑنے کے لیے مصلحت الٰہی نے ایسا ہی پسند فرمایا کہ چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے آخری سلسلہ میں مسیح آیا تھا ویسے ہی یہاں بھی ضروری تھا کہ مسیح آتا چنانچہ آگیا۔بعض یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مثیلِ موسیٰ تھا اس لیے یہاں بھی مثیل مسیح ہوتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہاں موسیٰ ہوتا تو شبہ پڑ جاتا۔لیکن یہاں الیاس کی نظیر موجود تھی اس لیے یہاں مسیح ہی کہہ دیا۔اصل مقصد فرمایا۔ہماری جماعت کو قیل و قال پر محدود نہیں ہونا چاہیے۔یہ اصل مقصد نہیں۔تزکیہ نفس اور اصلاح ضروری ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے۔۱ خواب کی حقیقت خواب کی فلاسفی بیان کرنے کی خاطر ایڈیٹر صاحب الحکم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک مکتوب گرامی حاشیہ میں شائع کیا ہےیہ مکتوب میر عباس علی کے نام ہے(مکتوبات جلد اوّل صفحہ ۸تا۱۰)جو درج ذیل ہے (مرتّب) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مشفقی مکرمی سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کی خواب کے آثار یوں ہی نظر آتے ہیں کہ انشاء اللہ رؤیا صالحہ و واقعہ صحیحہ ہوگا۔مگر اس ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۵تا ۱