ملفوظات (جلد 7) — Page 278
ضروری تھا کہ اس کا ازالہ ہوتا۔اب یہ ہمارے مخالف اندھے ہو کر ان کی خصوصیت بتاتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کر بیان کرتےہیں۔حالانکہ یہ تو حضرت مسیح کا ایک داغ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دھویا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے بیان کرنےکی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ مثلاً اگر ایک شخص کے چہرہ پر سیاہی کا داغ ہو اور اسے صاف کر دیا جاوے تو یہ کیسی حماقت ہو کہ ایک شخص جس کے چہرہ پر وہ داغ ہی نہیں بلکہ خوبصورت اور روشن چہرہ رکھتا ہو اس سے اس سیاہی کے داغ والے کو افضل کہا جاوے صرف اس لیے کہ اس کا داغ صاف ہوا ہے۔اس قسم کی غلطیوں میں ہمارے مخالف مبتلا ہیں۔ہم ان پر صبر کرتے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسلام اور ملت پر زد نہ ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو جب آسمان پر جانے کا معجزہ مانگا جاوے تو انہیں قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ (بنی اسـراءیل:۹۴) کا جواب ملے اور مسیح کے لیے تجویز کر لیا جاوے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔ایسی خصوصیتوں کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اسے خدا بنایا جاوے۔پھر توحید کہاں رہی؟ انہوں نے تو ان چالیس کروڑ کی مدد کی جو اسے خدا بنا رہے ہیں۔افسوس ان لوگوں نے اصل شریعت کو چھوڑ دیا اور عجوبہ پسند ہوگئے۔احیاء موتیٰ کا مسئلہ میرے متعلق یہ بھی اعتراض کرتے ہیںکہ مسیح نے مُردے زندہ کئے تھے اِنہوں نے کتنے کئے ہیں؟ میں اس کا کیا جواب دوں پہلے یہ تو معلوم کر لیں کہ مسیح نے کتنے مُردے زندہ کئے تھے؟ پھر اس کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ مجھ سے پہلے ہے میں تو آپؐکا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔آپ کے پاس ایک مُردہ کی بابت کہا گیا جس کو سانپ نے کاٹا تھا اور کہا کہ اس کی نئی شادی ہوئی ہے آپ اسے زندہ کر دیں۔آنحضرتؐنے فرمایا کہ اپنے بھائی کو دفن کرو۔اگر حقیقی مُردے زندہ ہو سکتے تو سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معجزہ دیا جاتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ بعض اوقات سخت امراض میں مبتلا اور ایسی حالت میں کہ اس میں آثارِ حیات مفقود ہوں