ملفوظات (جلد 7) — Page 277
جیسے لکھا ہے کہ ہارون رشید نے مصر کا علاقہ ایک حبشی کو دے دیا۔کسی نے پوچھا تو جواب دیاکہ یہ وہی مصر ہے جس کی حکومت سے فرعون نے خدائی کا دعویٰ کر دیا تھا۔اسی طرح پرمسیح کی خدائی پر زدّ مارنے کے لیے اللہ تعالیٰ نےمجھے مسیح بنا دیا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علوّ ِشان اس سے ظاہر ہو۔مَسِّ شیطان کی حقیقت میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں نے مسیح کو بہت سی خصوصیتیں ایسی دے رکھی ہیں جو اور کسی کو نہیں دی گئیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ مَسِّ شیطان سے وہی پاک ہے حالانکہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ کسی نبی کو بھی مسّ شیطان نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندوں میں سے بھی کسی کو مسّ شیطان نہیں ہوتا۔مطلب اس سے اَور تھا اور انہوں نے کچھ اَور سمجھ لیا۔اگر صرف یہ اعتقاد رکھا جاوے کہ مسیحؑ ہی مسِّ شیطان سے پاک تھے اَور کوئی پاک نہ تھے تو یہ تو کلمہ کفر ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہودی مریم علیہا السلام کو معاذ اللہ زانیہ اور حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ولد الزنا کہتے تھے۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کے اس الزام سے بریت کی اور مریم کا نام صدیقہ رکھا۔اور حضرت مسیح کے لیے کہا کہ وہ مسّ شیطان سے پاک ہے۔اولاد دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ جو مسّ شیطان سے ہو وہ ولد الحرام کہلاتی ہے۔دوسری وہ جو روح القدس کے مسّ سے ہو وہ ولد الحلال ہوتی ہے۔یہودیوں کا اس پر زور تھا کہ وہ مسیح پر ناجائز پیدائش کا الزام لگاتے تھے۔اور ان کے ہاں یہ لکھا تھا کہ ولد الحرام سات پشت تک بھی خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔چونکہ ان کے اس شبہ اور الزام کا جواب ضروری تھا اس لیے ان کے متعلق یہ کہا گیا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معاذ اللہ معاذ اللہ!! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسّ شیطان سے پاک نہ تھے۔ایسا اعتقاد کفر صریح ہے۔کیا کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت آمنہ کی نسبت ایسا الزام لگایا؟ کبھی نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مخالفوں نے امین اور صادق تسلیم کیا۔برخلاف اس کے مسیح اور ان کی والدہ کی نسبت یہودیوں کے بیہودہ الزام تھے ہی۔خود عیسائیوں نے انسائیکلو پیڈیا میں مان لیا ہے کہ نعوذ باللہ وہ ولد الحرام تھے پھر ایسی صورت میں کس قدر