ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 276

گیا ہے اور یہ وہ جسم ہے جو مرنے کے بعد عطا ہوتا ہے۔یہ پرانی باتیں ہیں نئی نہیں۔چونکہ انہوں نے قرون ثلاثہ کی باتیں بھلا دی ہیں۔اس لیے بار بار کہتے ہیں کہ کیا ہمارے باپ دادے غلطی پر تھے؟ میں نہیں کہتا کہ وہ غلطی پر تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ وہ زمانہ فیج اعوج ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر بھی کفار ایسا ہی کہتے تھے کہ یہ ہمارے باپ دادوں کے خلاف ہے۔یہ باپ دادے کی سند صحیح نہیں ہو سکتی۔ایک زمانہ قرونِ ثلاثہ کے بعد گذرا ہے جس کو شیطانی زمانہ کہتے ہیں یہ درمیانی زمانہ ہزار سال کا زمانہ ہے جس قدر خرابیاں اور فسق و فجور پھیلا ہے۔اس زمانہ میں ہی پھیلا ہے۔اگر صحابہ کرام ہوتے تو وہ بھی شناخت نہ کر سکتے۔اس زمانہ کا تو حوالہ دینا ہی عقلمندی نہیں۔وفاتِ مسیح کا مسئلہ تو ایسا صاف ہو چکا ہے کہ اب کوئی عقل اس کے خلاف تجویز نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا کہ فوت ہوگئے۔خود مسیح نے اپنی وفات کا اقرار کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مُردوں میں دیکھا اور پھر صحابہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع اسی پر کیا اور فیصلہ کر دیا۔صحابہؓ کا اجماع غلطی پر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کی فضیلت ہے۔وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ( اٰلِ عـمران: ۱۴۵) میں کہتے ہیں کہ خَلَتْ کے معنے موت کے نہیں۔مگر یہ تو ان کی غلطی ہے اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے خَلَتْ کے معنے کر دیئے ہیں۔اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ ( اٰلِ عـمران: ۱۴۵) اگر اس کے سوا کوئی اور معنے ہوتے جو یہ کرتے ہیں تو پھر رفع الـجسد العنصـری بھی ساتھ ہوتا۔مگر قرآن شریف میں تو ہے نہیں پھر ہم کیونکر تسلیم کر لیں۔ایسی صورت میں درمیانی زمانہ کی شہادت کو ہم کیا کریں؟ اور پھر تعجب یہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس مذہب کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس کی وفات کا اقرار کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اگر میرا نام عیسیٰ رکھا تو اس میں اسلام کا کیا برا ہوا؟ یہ تو اسلام کا فخر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر ہوا کہ وہ شخص جسے چالیس کروڑ انسان خدا سمجھتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک فرد ان کمالات کو پالیتا ہے بلکہ اس سے بڑھ جاتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے