ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 274

ایسی ہوتی ہے جیسے ایک شیشہ سامنے رکھا ہوا ہو اور تمام و کمال عکس اس میں پڑے۔میں کبھی اللہ تعالیٰ کے فضل اور برکات اور ان تاثیرات کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع سے ملتی ہیں محدود نہیں کر سکتا بلکہ ایسا خیال کرنا کفر سمجھتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ بہشت میں ایک مقام ہے جو مجھے ہی ملے گا۔ایک صحابی یہ سن کر رو پڑا۔آپ نے جب پوچھا کہ تو کیوں رو پڑا؟ تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ مجھے آپ کے ساتھ محبت ہے۔جب آپ اس مقام میں ہوں گے تو میں کہاں ہوںگا؟ آپ نے فرمایا کہ تو میرے ساتھ ہو گا۔اس سے معلوم ہوا کہ آپؐنے اس کے وجود کو اپنے اندر لے لیا۔غرض یہ یقیناً یاد رکھو کہ کامل اتباع کے ثمرات ضائع نہیں ہو سکتے۔یہ تصوف کا مسئلہ ہے۔اگر ظلی مرتبہ نہ ہوتا تو اولیاء امت تو مر جاتے۔یہی کامل اتباع اور بروزی اور ظلی مرتبہ ہی تو تھا جس سے بایزیدؒ نے محمدؐ کہلایا اور اس کہنے پر ستر مرتبہ کفرکا فتویٰ ان کے خلاف دیا گیا اور انہیں شہر بدر کیا گیا۔مختصر یہ کہ لوگ جو ہماری مخالفت کر تے ہیں انہیں اس بات کا علم نہیں اور وہ اس حقیقت سے بےخبر ہیں کاش وہ ان حالی کیفیات سے واقف ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر اور حقیقت ان لوگوں نے سمجھی ہی نہیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی تاثیرات اور ثمرات بھی باقی نہیں ہیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ثبوت ہی کیا ہے؟ اور اسلام کی فضیلت ہی کیا؟ اور اس شریعت کی اتباع کی حاجت ہی کیا جبکہ اس کے نتائج اور برکات ہم کو مل نہیںسکتے؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک بیہودہ اور کفریہ خیال ہے۔اسلام کی اتباع کے ثمرات اب بھی اور ہمیشہ مل سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات میں بخل نہیں اور نہ اس کے ہاں کسی بات کی کمی۔بعض آدمی اپنی بیوقوفی اور شتاب کاری سے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم نے ولی بننا ہے؟ میرے نزدیک ایسے لوگ کفر کے مقام پر ہیں۔اللہ تعالیٰ تو سب کو ولی کہتا ہے اور سب کو ولی بنانا چاہتا ہے۔اسی لیے وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کی ہدایت کرتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ تم منعم علیہ گروہ کی مانند ہوجاؤ۔جو کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں ہو سکتا وہ اللہ تعالیٰ پر بخل کی تہمت لگاتا ہے اور اس لیے یہ کلمہ کفر