ملفوظات (جلد 7) — Page 20
اس ہماری جماعت کے واسطے خدا کا وعدہ ہے کہ دنیا میں پھیلے گی۔پھر اگر طاقت والے اور اس کے پھیلانے والے اور لوگ ہوں گے تو تم نے کیا حاصل کیا؟ اب سوال یہ ہوگا کہ طاقت کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صادق اور پکا بندہ بن جاوے تاکہ کسی زلزلہ سے برگشتہ اور منہ پھیرنے والا نہ ہو۔صحابہ کرامؓ سارے ہی باخدا اور عاقل تھے مگر آنحضرت ان سے بڑھ کر ایسے وفادار تھے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔اسی لیے آپ کو سانپوں اور درندوں اور خار دار کانٹوں والا جنگل اس کے درندے حیوانات انسانی شکل میں دکھلائے گئے۔پھر ملک بھی ایسا اس کے سپرد کیا کہ جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شریر النفس نہ تھا۔پھر آئے ایسے وقت پر کہ تمام مردہ اور فساد کی جڑھ تھے جیسے فرمایا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم:۴۲) اور گئے ایسے وقت پر کہ فرمایا اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ الآیۃ (المآئدۃ:۴) اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ الآیۃ (النّصر:۲) اس کو معجزہ کہتے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنی محبت الٰہی اور قوت جاذبہ آنحضرت کے اندر تھی۔پس خدا کے خاص بندوں اور غیروں میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ قوتِ ایمانی اور استقامت ایسی ہو کہ کسی رکاوٹ شدید سے باز نہ رہے۔اس صفت سے جس کو جتنا حصہ ملا ہے اتنا ہی وہ برکت کا موجب ہوگا۔میرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی تبدیلی کے واسطے تین باتیں یاد رکھو۔(۱) نفس امارہ کے مقابل پر تدابیر اور جد و جہد سے کام لو۔(۲) دعاؤں سے کام لو۔(۳)سست اور کاہل نہ بنو اور تھکو نہیں۔ہماری جماعت بھی اگر بیج کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔جو ردی رہتے ہیں خدا ان کو بڑھاتا نہیں۔پس تقویٰ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو۔کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بد کلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا۔ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اٹھا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متبع ایمان لائے ہیں۔