ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 267

موجود ہے پھر یہ نرالا جسم کیسا؟ اگر نرالا نہیں تو بسم اللہ ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ جسم جو مرنے کے بعد دیا جاتا ہے وہ مسیح کو بھی دیا گیا۔پھر نزاع لفظی نکلی۔یہ ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ مسیح کو کوئی الگ جسم دیا جاوے کیونکہ یہ شرک ہے۔ہم جسم کے قائل ہیں لیکن اس جسم عنصری کے قائل نہیں۔انجیل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جلالی جسم تھا اور ایسا جسم مرنے کے بعد ملتا ہے۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ بہشت میں بھی جسم ہوں گے۔نعماء بہشت کی حقیقت لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جو لکھا ہے کہ بہشت میں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہاں گایوں کا ایک گلہ ہوگا اور بہت سارے گوالے ہوں گے جو دودھ دوہ دوہ کر ایک نہر میں ڈالتے رہیں گے۔یا بہت سے چھتے شہد کی مکھیوں کے ہوں گے اور پھر ان کا شہد جمع کر کے نہروں میں گرایا جاوے گا۔یہ مطلب نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات نہ ہوگی۔اگر یہی خربوزہ اور تربوز یا انار ہوں گے تو پھر بات ہی کیا ہوئی؟ کافر بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے یہاں اس دنیا میں کھا لیے۔تم نے آگے جا کر کھائے۔اس کی حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ (البقرۃ:۲۶) یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجا لاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔اس آیت میں بہشت کی حقیقت اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔گویا جو رشتہ نہروں کو باغ کے ساتھ ہے۔وہی تعلق اور رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہوتا ہےاور جس طرح پر کوئی باغ یا درخت بغیر پانی کے سر سبز نہیں رہ سکتا اسی طرح پر کوئی ایمان بغیر اعمال صالحہ کے زندہ اور قائم نہیں رہ سکتا۔اگر ایمان ہو اور اعمال صالحہ نہ ہوں تو ایمان ہیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریاکاری ہیں۔پس قرآن شریف نے جو بہشت پیش کیا ہے اس کی حقیقت اور فلسفی یہی ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور اعمال کا ایک ظل ہے اور ہر شخص کی بہشت اس کے اپنے اعمال اور