ملفوظات (جلد 7) — Page 266
سچی اور بالکل سچی اور صاف بات یہی ہے کہ اجسام ضرور ملتے ہیں لیکن یہ عنصری اجسام یہاں ہی رہ جاتے ہیں یہ اوپر نہیں جا سکتے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے جواب میں فرمایا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ( بنی اسـرآءیل :۹۴) یعنی ان کو کہہ دے میرا ربّ اس سے پاک ہے جو اپنے وعدوں کے خلاف کرے جو وہ پہلے کر چکا ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔سُبْحَانَ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ سابق جو وعدے ہو چکے ہیں ان کی خلاف ورزی وہ نہیں کرتا۔وہ وعدہ کیا ہے؟ وَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ(البقرۃ:۳۷) اور ایسا ہی فرمایا اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا(المرسلٰت:۲۶) اور پھر فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيْهَا تَمُوْتُوْنَ (الاعراف:۲۶) ان سب آیتوں پر اگر یکجائی نظر کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسم جو کھانے پینے کا محتاج ہے آسمان پر نہیں جاتا۔پھر ہم دوسرے نبیوں سے بڑھ کر مسیح میں یہ خصوصیت کیونکر تسلیم کر لیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے شرارت سے یہی سوال کیا تھا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے وہ آیات سن چکے تھے جس میں اس امر کی نفی کی گئی تھی۔انہوںنے سوچا کہ اگر اب اقرار کریں تو اعتراض کا موقع ملے۔لیکن وہ تو اللہ کا کلام تھا اس میں اختلاف نہیں ہو سکتا تھا۔اس لیے ان کو یہی جواب ملا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسـرآءیل :۹۴) یعنی ان کو کہہ دو کہ ایسا معجزہ اللہ تعالیٰ کے قول کے خلاف ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اپنے پہلے قول کے خلاف کرے۔غرض یہ کس قدر موٹی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بار بار پیش کی ہیں۔مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ یہ ان کو سمجھتے نہیں اور خواہ مخواہ حضرت مسیح میں کچھ ایسی خصوصیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دوسروں میں نہیں ہے۔قرآن شریف کی یہ تعلیم اور بخاری اور مسلم کو دیکھو اور صحاح کو پڑھو وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت موجود ہے۔آپ نے حضرت مسیح کو یحییٰ کے ساتھ دیکھا ویسے ہی حضرت مسیح کو اس وقت ان میں کوئی خاص بات نہ تھی جو بطور جسم کے الگ ہو یعنی ان کا تو جسم ہو اور حضرت یحییٰ کی مجرد روح ہو۔جب قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح شہادت