ملفوظات (جلد 7) — Page 259
انہوں نے دیکھا کہ زمین تو ربع مسکون ہے اور اس میں بھی بہت ہی تھوڑا حصہ آباد ہے۔اگر وہ تمام لوگ جو ابتدائے آفرینش سے پیدا ہوئے اب تک زندہ رہتے تو ان کے رہنے کو کوئی جگہ اور مقام نہ ملتا۔یہاں تک کہ وہ کھڑے بھی نہ ہو سکتے۔پس اس قدر کثرت خود چاہتی ہے کہ موت ہوتا کہ پہلے چلے جاویں تو دوسروں کے لیے جگہ ہو۔موت کو یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ مر کر انسان بالکل گم ہو جاتا ہے نہیں بلکہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک کوٹھڑی سے نکل کر انسان دوسری کوٹھڑی میں چلا جاتا ہے۔اس کی حقیقت کسی قدر خواب سے سمجھ میں آسکتی ہے کیونکہ خواب بھی گویا ہمشیرہ موت ہے۔خواب میں بھی ایک قسم کا قبض روح ہی ہوتا ہے۔دوسروں کے خیال میں جو سونے والے کے پاس بیٹھے ہیں وہ بالکل بے خبری اور محویت کے عالم میں ہیں۔لیکن خواب دیکھنے والا معاً دوسرے عالم میں ہوتا ہے۔اور وہ سیاحت کر رہا ہوتا ہے۔اب بظاہر اس کے حواس اور قویٰ سب معطل ہوتے ہیں لیکن سونے والا اور خواب دیکھنے والا خوب جانتا ہے کہ اس کے حواس اور قویٰ سب کام میں لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح پر مرنے والا موت کے بعد اپنے آپ کو معاً دوسرے عالم میں دیکھتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ جب موت آتی ہے تو وہ شخص جس نے اپنی عمر عزیز کو دنیا کے حصول میں ہی ضائع کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کیا تھا۔وہ چونکہ ابھی اپنے بہت سے کاموں کو ناتمام اور ادھورا پاتا ہے۔اس لیے اس پر حسرت اور افسوس کا استیلا ہو جاتا ہے اور وہ موت اسے تلخ گھونٹ معلوم ہوتی ہے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ انسان دل بستگی پیدا نہ کرے اور اپنے اوقات کو ضائع نہ کرے۔ہر لحظہ کو غنیمت سمجھ کر اور یہ یقین کر کے کہ شاید ابھی موت آجاوے مرنے کے واسطے طیار رہنا چاہیے۔جب اس طیاری کی فکر دامنگیر رہے گی تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان اپنے تعلقات کو بڑھائے گا اور اس دوسرے جہان میں آرام پانے کا خیال کرے گا۔یہ خوب یاد رکھو کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔جیسے زمیندار اپنی فصل کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے لیے ہر قسم کے دکھ اور تکالیف اٹھاتا ہے۔اسی طرح پر مومن کو اس کی حفاظت کے لیے کرنا چاہیے۔تاکہ دوسرے جہان میں آرام پاوے۔اگر اب بے پروائی کرے گا اور وقت کی قدر نہیں