ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 250

جب شریعت توریت قابل عمل نہیں اور باوجود بہت سی اشیاء کی حرمت کے جن کا حکم توریت میں موجود ہے عیسائیوں کے واسطے ضروری نہیں کہ ان احکام پر عمل کریں تو پھر رشتہ ناطہ کے معاملہ میں اس قدیم شریعت پر عمل کرنے کی کیا حاجت ہے اور بہن یا سالی وغیرہ سے شادی کرنا انجیل کے کس حکم کے برخلاف ہے؟ خدا تعالیٰ کا حلم بعض لوگوں کے بدیوں اور شرارتوں میں حد سے بڑھ جانے کا ذکر تھا۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ بڑا حلیم اور کریم ہے اور اس کے کام نہایت آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔معصیت میں پڑے ہوئے لوگوں کو وہ مہلت دیتا ہے اور لوگ اس پر حیران ہوتے اور گھبراتے ہیں۔لیکن گذشتہ واقعات زمانہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں پر جب عذاب آتا ہے نہایت سخت آتا ہے۔زمانہ میں راحت کے دن بہت ہیں مگر آخر کار گرفتاری کا بھی ایک دن آہی جاتا ہے اور اس وقت ایسا پکڑا جاتا ہے کہ اس کے دکھ کو دیکھ کر سخت سے سخت دل آدمی بھی دردناک ہوجاتا ہے۔؎ ہاں مشو مغرور از حلم خدا دیر گیرد سخت گیرد مر ترا (قبل نماز ظہر) دعا کا اثر جیسا اثر دعا میں ہے ویسا اور کسی شے میں نہیں ہے مگر دعا کے واسطے پورا جوش معمولی باتوں میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ معمولی باتوں میں تو بعض دفعہ دعا کرنا گستاخی معلوم ہوتی ہے اور طبیعت صبر کی طرف راغب رہتی ہے۔ہاں مشکلات کے وقت دعا کے واسطے پورا جوش دل میں پیدا ہوتا ہے تب کوئی خارق عادت ظاہر ہوتا ہے۔کہتے ہیں دہلی میں ایک بزرگ تھا۔بادشاہ وقت اس پر سخت ناراض ہوگیا۔اس وقت بادشاہ کہیں باہر جاتا تھا۔حکم دیا کہ واپس آکر میں تم کو ضرور پھانسی دوں گا اور اپنے اس حکم پر قسم کھائی۔جب اس کی واپسی کا وقت قریب آیا تو اس بزرگ کے دوستوں اورمریدوں نے غمگین ہو کر عرض کی کہ بادشاہ کی واپسی کا وقت اب قریب آگیا ہے۔اس نے جواب دیا ہنوز دہلی دور است۔جب