ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 248

سے مراد سلامتی ہے۔‘‘ فرمایا۔’’سب اللہ تعالیٰ کے لشکر ہیں جہاں حکم ہوتا ہے وہاں چڑھائی کرتے ہیں۔‘‘ مصائب گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں مولوی عبد الکریم صاحب کی بیماری کا اور ان کے متعلق دعا کا ذکر کرتے ہوئے شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔آپ کے واسطے بھی پانچ وقت نماز میں دعا کی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ تکالیف سے اپنے بندوں کو ثواب دے۔عبادات میں جو قصور رہ جاتے ہیں ان کا ازالہ قضاء و قدر کے مصائب سے ہوجاتا ہے کیونکہ عبادت کی تکلیف میں تو انسان اپنا رگ پٹھا آپ بچا لیتا ہے۔سردی ہو تو وضو کے لیے پانی گرم کر لیتا ہے۔کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھ لیتا ہے لیکن قضاء و قدر سے جو آسمانی مار پڑتی ہے وہ رگ پٹھہ نہیں دیکھتی۔دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں ہمیشہ کی خوشی صرف کافر کو حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے لیے عذاب کا گھر آگے ہے۔لیکن مومن کے لیے ایسی زندگی ہوتی ہے کہ کبھی آرام اور کبھی تکلیف۔ہاں جان بخیر چاہیے۔یہ مصائب گناہ کا کفارہ ہوتے ہیں۔کرب اور گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔ع خدا داری چہ غم داری خدا پر پورا ایمان اور بھروسہ ہو تو پھر انسان کو خواہ تنور میں ڈال دیا جاوے اسے کوئی غم نہیں ہوتا۔تکالیف کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد پھر راحت ہے۔جیسا بچہ پیدا ہونے کے وقت عورت کو تکلیف ہے بلکہ ساتھ والے بھی روتے ہیں۔لیکن جب بچہ پیدا ہوگیا تو پھر سب کو خوشی ہے۔ایسا ہی مومن پر خدا کی طرف سے ایک تکلیف اور دکھ کا وقت آتا ہے تاکہ وہ آزمایا جائے اور صبر اور استقامت کا اجر پائے۔اصل میں تکالیف کے دن ہی مبارک دن ہوتے ہیں۔انبیاء تکالیف کے ساتھ موافقت کرتے ہیں۔ہر ایک شخص پر نوبت بہ نوبت یہ دن آتے ہیں تاکہ معلوم ہوجاوے کہ اس