ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 247

خوبیاں تھیں۔کسی میں کوئی خوبی اور کمال تھا اور کسی میں کوئی۔اور ان تمام نبیوں کی اقتدا کرنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ان تمام متفرق خوبیوں کو اپنے اندر جمع کر لینا چاہیے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص جامع ان تمام خوبیوں کا ہے جو متفرق طور پر تمام انبیاء میں پائی جاتی ہیں وہ تمام متفرق کمالات اپنے اندر جمع رکھتا ہے اس لیے وہ تمام انبیاء سے افضل ہے کیونکہ ہر ایک کی خوبی اس میں موجود ہے اور وہ تمام متفرق خوبیوں کا جامع ہے مگر پہلے اس سے کوئی نبی ان تمام خوبیوں کاجامع نہ تھا۔۱ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء (بوقتِ صبح) انجام بخیر ہے فرمایا۔طب کے ظنی امور ہیں۔اللہ تعالیٰ کے پاس جو یقین ہوتا ہے وہ کہاں؟ پیشگوئیوں کا معاملہ مخفی رکھا جاتا ہے تاکہ تکالیف کا ثواب انسان حاصل کرے۔درمیانی دکھ ہیں اور انجام بخیر ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی ایک رؤیا اور اس کی تعبیر عاجز۲ راقم نے اپنی رؤیا بیان کی کہ ’’میں رات مولوی عبد الکریم صاحب کے واسطے بہت دعا کرتا تھا تو تھوڑی غنودگی میں ایسا معلوم ہوا کہ میں کہتا ہوں یا کوئی کہتا ہے بلاؤں میں جندرے مارے گئے۔‘‘ فرمایا:۔’’مبشر ہے۔‘‘ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی ایک رؤیا اور اس کی تعبیر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ کوئی کہتا ہے مولوی صاحب کو خیر ہے۔استغفار اور لاحول پڑھنا چاہیے اور پھر میں نے ایک آواز سنی سَلَامٌ۔عَلَیْکُمْ۔فرمایا۔’’لاحول سے یہ مراد ہے کہ بغیر فضل الٰہی کے کوئی حیلہ باقی نہیں رہا۔اور سَلَامٌ۔عَلَیْکُم ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ ۲ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ (مرتّب)