ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 243

سوچنا چاہیے کہ اگر کوئی فرقہ تھوڑی سی ترقی کر کے رک جاتا ہے تو کیا ایسے فرقوں کی نظیر موجود نہیں جو عالم پر محیط ہوجاتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ کے ارادوں پر نظر کر کے حکم کرنا چاہیے۔جو لوگ رہ گئے اور ان کی ترقی رک گئی ان کی نسبت ہم یہی کہیں گے کہ وہ اس کی نظر میں مقبول نہ تھے۔وہ اس کی نہیں بلکہ اپنی پرستش چاہتے تھے مگر میں ایسے لوگوں کو نظیر میں پیش کرتا ہوں جو اپنے وجود سے جل جاویں اور اللہ تعالیٰ ہی کی عظمت اور جلال کے خواہشمند ہوں۔اس کی راہ میں ہر دکھ اور موت کے اختیار کرنے کو آمادہ ہوں۔پھر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں تباہ کر دے؟ کون ہے جو اپنے گھر کو خود تباہ کردے؟ ان کا سلسلہ خدا کا سلسلہ ہوتا ہے اس لیے وہ خود اسے ترقی دیتا ہے اور اس کے نشو ونما کا باعث ٹھیرتا ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں ہوئے ہیں۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ان میں سے کون تباہ ہوا؟ ایک بھی نہیں۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجموعی طور پر دیکھ لو کیونکہ آپ جامع کمالات تھے۔ساری قوم آپ کی دشمن ہوگئی اور اس نے قتل کے منصوبے کئے مگر آپ کی اللہ تعالیٰ نے وہ تائید کی جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ایک دفعہ اوائل دعوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری قوم کو بلایا۔یہ ابوجہل وغیرہ سب ان میں شامل تھے۔۱ اہل مجمع نے سمجھا تھا کہ یہ مجمع بھی کسی دنیوی مشورہ کے لیے ہوگا۔لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ کے آنے والے عذاب سے ڈرایا گیا تو ابو جہل۲ بول اٹھا تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْمِ اَلِھٰذَا جَـمَعْتَنَا۔غرض باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ صادق اورامین سمجھتے تھے مگر اس موقع پر انہوں نے خطرناک مخالفت کی اور ایک آگ مخالفت کی بھڑک اٹھی۔لیکن آخر آپ کامیاب ہوگئے اور آپ کے مخالف سب نیست و نابود ہوگئے۔ہاں حضرت اقدس نے وہ سارا واقعہ بیان فرمایا۔(ایڈیٹر) ۲ ابو لہب نے یہ بات کہی تھی۔غالباً ڈائری نویس یا کاتب کی غلطی سے ابوجہل لکھا گیا ہے۔(مرتّب)