ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 242

کرنے والی بات نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک اور کامل نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ مکہ والوں نے کیسی مخالفت کی اور پھر اسی مکہ میں سے وہ لوگ نکلے جو دنیا کی اصلاح کرنے والے ٹھیرے۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) انہیں میں سے تھے۔وہ ابو بکر (رضی اللہ عنہ) جن کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو بکر کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بات سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں مکہ والوں میں سے تھے۔حضرت عمرؓ بڑے بھاری مخالف تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ مشورہ قتل میں بھی شریک اور قتل کے لیے مقرر ہوئے لیکن آخر خدا تعالیٰ نے ان کو وہ جوش اظہار اسلام کا دیا کہ غیر قومیں بھی ان کی تعریف کرتیں اور ان کا نام عزت سے لیتی ہیں۔غرض ہم کو وہ مشکلات پیش نہیں آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئے۔باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے جب تک پورے کامیاب نہیں ہوگئے اور آپ نےاِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النصـر:۲،۳) کا نظارہ دیکھ نہیں لیا۔آج ہمارے مخالف بھی ہر طرح کی کوشش ہمارے نابود کرنے کی کرتے ہیں۔مگر خدا کا شکر ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ جس قدر مخالفت اس سلسلہ کی انہوں نے کی ہے اسی قدر ناکامی اور نامرادی ان کے شامل حال رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بڑھایا ہے۔یہ تو خیال کرتے اور رائے لگاتے ہیں کہ یہ شخص مرجاوے گا اور جماعت متفرق ہو جاوے گی۔یہ فرقہ بھی دوسرے فرقہ برہموؤں وغیرہ کی طرح ہے کہ جن میں کوئی کشش نہیں ہے اس لیے اس کے ساتھ ہی اس کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے خود ارادہ فرمایا ہے کہ اس سلسلہ کو قائم کرے اور اسے ترقی دے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرقے نہ تھے؟ اس وقت ان کے مخالف بھی یہی سمجھتے ہوں گے کہ بس اب ان کا خاتمہ ہے لیکن خدا نے ان کو کیسا نشو و نما دیا اور پھیلایا۔ان کو