ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 241

اس کے لیے ہر قسم کے سامان مہیا ہوجاتے ہیں اور وہ ترقی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ بالکل اکیلے تھے اور اس بیکسی کی حالت میں دعویٰ کرتے ہیں يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) کون اس وقت خیال کر سکتا تھا کہ یہ دعویٰ ایسے بے یارو مددگار شخص کا بار آور ہوگا۔پھر ساتھ ہی اس قدر مشکلات آپؐکو پیش آئے کہ ہمیں تو ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں آئے۔وہ زمانہ تو ایسا زمانہ تھا کہ سکھا شاہی سے بھی بدتر تھا۔اب تو گورنمنٹ کی طرف سے پورا امن اور آزادی ہےاس وقت ایک چالاک آدمی ہر قسم کی منصوبہ بازی سے جو کچھ بھی چاہتا دکھ پہنچاتا مگر مکہ جیسی جگہ میں اور پھر عربوں جیسی وحشیانہ زندگی رکھنے والی قوم میں آپؐنے وہ ترقی کی جس کی نظیر دنیا کی تاریخ پیش نہیں کر سکتی۔مخالفوں میں سے ہی خدا کی مرضی پوری کرنے والے پاک دل نکلیں گے اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ خود ان کی مذہبی تعلیم اور عقائد کے خلاف انہیں سنایا کہ یہ لات اور عزیٰ جن کو تم اپنا معبود قرار دیتے ہو یہ سب پلید اور حطبِ جہنم ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کون سی بات عربوں کی ضدی قوم کو جوش دلانے والی ہو سکتی تھی۔لیکن انہیں عربوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نشو و نما پایا اور ترقی کی۔انہیں میں سے حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ) جیسے بھی نکل آئے۔اس سے ہمیں امید ہوتی ہے کہ انہیں مخالفوں سے وہ لوگ بھی نکلیں گے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کو پورا کرنے والے اور پاک دل ہوں گے اور یہ جماعت جو اس وقت تک طیار ہوئی ہے آخر انہیں میں سے آئی ہے۔کئی دفعہ میر صاحب۱ نے ذکر کیا کہ دلّی سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے مگر میرے دل میں یہی آتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔دلّی میں بھی بعض پاک دل ضرور چھپے ہوئے ہوں گےجو آخر اس طرف آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے جو ہمارا تعلق دلّی سے کیا ہے یہ بھی خالی از حکمت نہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہم کبھی نا امید نہیں ہو سکتے۔آخر خود میر صاحب بھی دلّی ہی کے ہیں۔۲ غرض یہ کوئی نا امید ۱ میر ناصر نواب صاحبؓمراد ہیں۔(ایڈیٹر) ۲ حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا۔منشی عبد العزیز بابو محمد اسمٰعیل صاحب وغیرہ بھی دہلوی ہی ہیں۔(ایڈیٹر)