ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 239

لوگ ہوتے ہیں جن کو اگر مرنے والا زندہ ہوتا تو ایک حبّہ بھی ان کو دینا پسند نہیں کرتا تھا۔پھر کیسی غلطی ہے کہ انسان اپنے مال کو ایسی جگہ خرچ نہ کرے جو اس کے لیے ہمیشہ کے واسطے راحت اور آسائش کا موجب ہو جاوے۔میں حیران ہوتا ہوں جب یورپ کی طرف دیکھتا ہوں کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنانے کے لیے ان میں اس قدر جوش اور سر گرمی ہے اور ہم میں خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے ظاہر کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔یہ کس قدر بد قسمتی ہے؟ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیں۔اگر اسے خوش کریں تو سب کچھ مل سکتا ہے۔مگر ان کی یہی تو بد قسمتی ہے کہ وہ اس کو ناراض کر رہے ہیں۔مجھے بہت ہی افسوس ہوتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کو خدا نے ایک سچا دین اسلام عطا کیا تھا مگر انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔خدا جانے یہ بے پروائی کیا نتیجہ پیدا کرے؟ دین کی کچھ بھی پروا اور غیرت نہیں۔باہم اگر جنگ و جدل ہے تو اس میں شیخی، ریا، عُجب مقصود ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت۔لیکن جو شخص ہر امر میں اللہ تعالیٰ کو مقدم کرے اور اس کے دین کی حمیت اور غیرت میں ایسا محو ہو کہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اورجلال کا ظاہر کرنا اس کا مقصود خاطر ہو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے دفتر میں صدیق کہلاتا ہے۔ہم جس طریق پر اسلام کو پیش کر سکتے ہیں دوسرا نہیں کر سکتا۔مگر مشکلات یہ ہیں کہ ہماری جماعت کا بہت بڑا حصہ غرباء کا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ باوجودیکہ یہ غرباء کی جماعت ہے تاہم میں دیکھتا ہوں کہ ان میں صدق ہے اور ہمدردی ہے اور وہ اسلام کی ضروریات سمجھ کر حتی المقدور اس کے لیے خرچ کرنے سے فرق نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ساتھ ہو تو کام بنتا ہے اور ہم اس کے فضل کے امید وار ہیں۔اللہ تعالیٰ اسلام کو تمام حملوں سے بچائے گا جس طرح پر ایک طوفان قریب آتا ہو تو انسان کو فکر ہوتا ہے کہ یہ طوفان تباہ کر دے گا اسی طرح پر اسلام پر طوفان آرہے ہیں۔مخالف ہر وقت ان کوششوں میں لگے ہوئے ہیں