ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 237

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۷ جلد ہفتم یہی فرض ہے کہ ہم بھی ان کے جواب میں قلم اٹھائیں اور رسالوں اور کتابوں کے ذریعہ ان کے حملوں کو روکیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ بیماری کچھ ہو اور علاج کچھ اور کیا جاوے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا نتیجہ ہمیشہ غیر مفید اور برا ہوگا۔ یقیناً یا د رکھو کہ اگر ہزاروں ہزار جانیں بھی ضائع کر دی جائیں اور اسلام کے خلاف کتابوں کا ذخیرہ بدستور موجود ہو تو اس سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اصل یہی بات ہے کہ ان کتابوں کے اعتراضوں کا جواب دیا جاوے۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پاک کیا جاوے۔ مخالفوں کی طرف سے جو کارروائی ہو رہی ہے اس کا انسداد بجر قلم کے نہیں ہو سکتا۔ یہ نری خام خیالی اور بیہودگی ہے جو مخالف تو اعتراض کریں اور اس کا جواب تلوار سے ہو۔ خدا تعالیٰ نے کبھی اس کو پسند نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی جو مسیح موعود کے وقت میں اس قسم کے جہاد کو حرام کر دیا۔ اس ملک میں تو عیسائیوں کی ایسی تحریریں شائع ہوتی ہی رہتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ فتنہ اسی ملک میں ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی اس قسم کی شرارتیں ہو رہی ہیں۔ مصر اور بلاد شام (بقیہ حاشیہ ) دے کر ترجمہ کرایا جائے اور پھر اس کا دس ہزار نسخہ چھاپ کر جاپان میں شائع کر دیا جاوے۔ ایسے موقع پر سود کار و پیر لگانا جائز ہے۔ کیونکہ ہر ایک مال خدا کا ہے اور اس طرح پر وہ خدا کے ہاتھ میں جائے گا مگر بایں ہمہ اضطرار کی حالت میں ایسا ہو گا اور بغیر اضطرار یہ بھی جائز نہیں ۔ ایک دوست نے عرض کی کہ اگر اس طرح سے ایک خاص امر کے واسطے سود کے روپے کمانے کی اجازت دی گئی ہو تو لوگوں میں اس کا رواج وسیع ہو کر عام قباحتیں پیدا ہو جائیں گی ۔ 66 فرمایا کہ بیجا عذر تراشنے کے واسطے تو بڑے حیلے ہیں ۔ بعض شریر لا تَقْرَبُوا الصَّلوة (النساء : ۴۴) کے یہ معنے کر دیتے ہیں کہ نماز نہ پڑھو۔ ہمارا منشا صرف یہ ہے کہ اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سود کے روپے کو خرچ کرلے تو کیا قباحت ہے؟ یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔ یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے کیونکہ دراصل سود کا عام حکم تو حرمت ہی ہے۔“ ( بدر جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۲۹ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه (۴)