ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 15

پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز سن کر تم کو جواب دے گا مگر جب وہ دور سے جواب دے گا تو تم بباعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پردے اور حجاب اور دوری دور ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہوجاتی کہ اس کی کوئی ہستی ہے بھی۔پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبردست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں یا دیدار یا گفتار۔پس آج کل کا گفتار قائم مقام ہے دیدار کا۔ہاں جب تک خداکے اور اس سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔جب درمیانی پردہ اٹھ جاوے گا تو اس کی آواز سنائی دے گی۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ تیرہ سو برس سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ بند ہوگیا ہے۔اس کا اصل میں مطلب یہ ہے کہ اندھا سب کو ہی اندھا سمجھتا ہے۔کیونکہ اس کی اپنی آنکھوں میں جو نور موجود نہیں۔اگر اسلام میں یہ شرف بذریعہ دعاؤں اور اخلاص کے نہ ہوتا تو پھر اسلام کچھ چیز بھی نہ ہوتا۔اور یہ بھی اور مذاہب کی طرح مردہ مذہب ہوجاتا۔اسلام کا خاص امتیاز پس تم ان مُردوں کی طرف خیال مت کرو۔جو خود بھی مُردہ اور اسلام کو بھی مردہ بناتے ہیں۔یہ تو درحقیقت ایسا مذہب ہے کہ جس میں انسان ترقی کرتا ہوا فرشتوں سے مصافحہ جا کرتا ہے۔اور اگر یہ بات نہ تھی تو صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتـحۃ:۷) کیوں سکھایا؟ اس میں صرف جسمانی اموال کی طلب نہیں کی گئی بلکہ روحانی انعام کی درخواست ہے۔پس اگر تم نے ہمیشہ اندھا ہی رہنا ہے تو پھر تم مانگتے کیا ہو؟ یہ دعا فاتحہ ایسی جامع اور عجیب دعا ہے کہ پہلے کبھی کسی نبی نے سکھلائی ہی نہیں۔پس اگر یہ نرے الفاظ ہی الفاظ ہیں اور اس کو خدا نے منظور نہیں کرنا تو ایسے الفاظ خدا نے ہمیں کیوں سکھلائے؟ اگر تمہیں وہ مقام ملنا ہی نہیں تو ہم پانچ وقت کیوں ضائع کرتے ہیں؟ خدا کی ذات میں بخل نہیں اور نہ انبیاء اس لیے آتے ہیں کہ ان کی