ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 217

سننا بھی باطل ہوگا اور پھر دوسرے صفات بھی باطل ہوجائیں گے۔آریہ بھی اتنا تو مانتے ہیں کہ وہ سنتا ہے لیکن جب ہم پوچھتے ہیںکہ کیا وہ سنتا۱ بھی ہے تو یہاں آکر خاموش ہوجاتے ہیں۔تو پھر یہ کیونکر مان لیا جاوے کہ اس کے کان تو ہیں مگر زبان نہیں۔یہ تو ادھورا خدا ہوا۔سچا معلم اور مذہب وہی ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دے جو سننے کا ثبوت دیتا ہے وہ بولنے کا بھی دیتا ہے۔اس معیار پر آکر صرف اسلام ہی ہے جو سچا ثابت ہوگا۔آریہ کہتے ہیں کہ کسی قدیم زمانے میں بولتا تھا اب نہیں بولتا۔مگر ہم کہتے ہیں اس کا کیا ثبوت ہے کہ پہلے بولتا تھا؟ ایسا ہی عیسائیوں کا بھی حال ہے وہ بھی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتے کہ خدا بولتا ہے۔ہاں ہم کہتے ہیں کہ جس طرح خدا کو دیکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اسی طرح ہم یقین رکھتے ہیں اور اپنے تجربہ سے کہتے ہیں کہ وہ بولتا بھی ہے۔یہ سچ ہے کہ اس کی آواز سننے کے لیے خود تمہارے کان بھی کھلے ہوئے ہونے چاہئیں۔اگر تم اپنے کان میں روئی دے دو گے تو ہرگز نہیں سن سکتے۔یا آفتاب اور ماہتاب کے نور سے بھاگ کر کسی تہہ خانہ میں چھپ جاؤ تو روشنی کیونکر آسکے گی؟ ہر چیز کے حصول کے لیے ایک قانون ہوتا ہے۔اگر کوئی اس قانون کو چھوڑ کر اور اس سے منحرف ہوکر اسے حاصل کرنا چاہے تو حاصل نہیں کر سکتا مثلاً آنکھ کان میں جو قوتیں ہیں اگر ان سے کام نہ لے تو اثر نہیں رہتا۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ انسان اول اپنے دل کو پاک کرے اور نفسانی خواہشوں کی مخالفت کرے۔اس سے درمیانی گرد و غبار اٹھ جائے گا اور ثابت ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ سنتا بھی ہے اور بولتا بھی ہے۔جو لوگ عارف ہوتےہیں ان پر یہ باتیں کھل جاتی ہیں۔وہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کے صفات کو مشاہدہ کرتے ہیں جو شخص ان صفات کو دیکھتا نہیں وہ صرف طوطے کی طرح رٹتا ہے۔آریوں نے جو صفائی کی ہے وہ تو پہلے سے بھی گیا گذرا والا معاملہ ہوا ہے۔اگر انصاف سے دیکھا جاوے تو زبانی لاف و گزاف کچھ نہیں کر سکتی۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے سارے دعوے باطل ہیں۔اس لیے