ملفوظات (جلد 7) — Page 176
اس کا اعلان کر سکتا ہے۔مثیل مسیح فرمایا۔میں حیران ہوں میرا معاملہ تو بالکل صاف تھا۔تین باتیں تھیں۔ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ بھی تسلیم کر لیا اور امت کے مثل یہود ہو جانے کا بھی اقرار کر لیا اور عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْـرَآءِیْلَ بھی تسلیم کیا۔ان ساری باتوں کو تو مثیل کے طور پر مانا لیکن مسیح کے متعلق یہ کہتے ہیںکہ وہی آئے گا۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ یہ تو ایسی مثال ہے کہ جیسے دو بھائی ہیں۔جب ان میں کوئی تقسیم ہو تو ہر ایک قسم کی چیزیں انہیں دی جاتی ہیں جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں یہودیوں کے مثیل مانتے ہیں تو اس میں کیوں موت پڑتی ہے کہ ایک مسیح بھی تسلیم کریں۔فرمایا۔میں دیکھتا ہوں براہین میں میرا نام اصحاب الکہف بھی رکھا ہے۔اس میں یہ سِر ہے کہ جیسے وہ مخفی تھے اسی طرح پر تیرہ سو برس سے یہ راز مخفی رہا اور کسی پر نہ کھلا۔اور ساتھ اس کے جو رقیم کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود مخفی ہونےکے اس کے ساتھ ایک کتبہ بھی ہے۔اور وہ کتبہ یہی ہے کہ تمام نبی اس کے متعلق پیشگوئی کرتے چلے آئے ہیں۔۱ ۳؍اگست ۱۹۰۵ء خدا تعالیٰ کی تازہ وحی رؤیا میں دیکھا کہ ایک لفافہ ہے جس میں کچھ پیسے ہیں۔کچھ پیسے اس میں سے نکل کر باہر سامنے بھی پڑے ہیں۔اس کے بعد الہام ہوا ’’تیرے لیے میرا نام چمکا۔‘‘ فرمایا۔اس الہام سے پہلے اگرچہ خواب میں پیسے دیکھے گئے جو کسی جھگڑے یا غم پر دلالت کرتے ہیں مگر وحی الٰہی صریح لفظوں میں دلالت کرتی ہے کہ اس کے بعد کوئی نشان ظاہر ہوگا جس