ملفوظات (جلد 7) — Page 167
فرمایا۔زندگی نا قابل اعتبار ہے فرصت بہت کم ہے۔ہر ایک کو چاہیے کہ دین کی فکر میں لگ جائے۔اس سے بہتر نسخہ عمر بڑھانے اور برکت کا نہیں۔۱ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۵ء (بوقتِ نماز فجر) اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا موقع آج صبح تین بجے کے قریب زلزلہ کا سخت دھکا لگا۔صبح کی نماز میں حضرت تشریف لائے۔فرمایا۔کل میں دعا کر رہا تھا کہ ایسے لوگ شرارتوں میں بڑھ رہے ہیں اور غفلت نے ان کے قلوب موٹے کر دیئے ہیں کہ اگر یونہی سکون قرار رہا تو ان کا استہزا ترقی کر جائے گا۔اس سلسلہ کو جاری رہنا چاہیے۔فرمایا۔اب ان مادہ پرست منکران قدرت الٰہی کا مقابلہ اللہ تعالیٰ سے آپڑا ہے۔یہ حکم لگاتے ہیں کہ کوئی آفت آنے والی نہیں۔آخر میں فرمایا کہ ہماری جماعت کے لیے اب عمدہ وقت ہے کہ ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلیں۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کے لیے تبدیلی کرے۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کا معاملہ انسان کے ساتھ اس کے گمان اور تبدیلی کے اندازہ پر ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ پر نیک گمان رکھو اور دعا اور اُمّـید میں کبھی نہ تھکو اور نہ مایوس ہو۔ایک الہام اور اس کی تشریح کُنْتُ کَنْزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ ترجمہ۔میں مخفی خزانہ تھا پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں۔فرمایا۔یہ صفاتِ الٰہیہ کا ظہور ہے کسی زمانہ میں کوئی ایک صفت ظاہر ہوتی ہے اور کسی زمانہ میں پوشیدہ رہتی ہے جب ایک اصلاح کا زمانہ دور پڑ جاتا ہے اور لوگوں میں خدا شناسی نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ پھر اپنی معرفت کو ظاہر کرنے کے واسطے ایک ایسا آدمی پیدا کرتا ہے۔جس کے ذریعہ سے