ملفوظات (جلد 7) — Page 166
فرمایا۔ہر شخص اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ دین و دنیا میں سے کس کا زیادہ غم اس کے دل پر غالب ہے۔اگر ہر وقت دل کا رُخ دنیا کے امور کی طرف رہتا ہے تو اسے بہت فکر کرنی چاہیے۔اس لیے کہ کلماتِ الٰہیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔فرمایا۔کاش لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ جس شخص کا تمام ھمّ و غم دین کے لیے ہوتا ہے اس کے دنیا کے ھمّ و غم کا اللہ تعالیٰ متکفّل و متولّی ہوجاتا ہے۔فرمایا۔میں نے کبھی نہیں سنا اور نہ کوئی کتاب گواہی دیتی ہے کہ کبھی کوئی نبی بھوکا مرا ہو یا اس کی اولاد دروازوں پر بھیک مانگتی پھرتی ہو۔ہاں دنیا کے ملوک اور امراء اور اغنیاء کا یہ بُرا حال اکثر سنا گیا ہے کہ ان کی اولاد نے در بدر ٹکڑے مانگے ہیں۔خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ ہے کہ کبھی کوئی کامل مومن بستر نرم سے خاکستر گرم پر نہیں بیٹھا اور نہ اس کی اولاد کو روزِ بد دیکھنا نصیب ہوا۔اگر لوگ ان باتوں پر پختہ ایمان لے آئیں اور سچا اور پاک بھروسہ اللہ تعالیٰ پر کر لیں تو ہر قسم کی روحانی خود کشی اور دلی جلن سے رہائی پا جائیں۔فرمایا۔اکثر لوگوں کو اولاد کی آرزو بھی اس خیال سے لگی رہتی ہے کہ کوئی ان کی مردار دنیا کا وارث پیدا ہو جائے۔نہیں جانتے کہ اگر وہ بد کار و ناہنجار نکلے تو ان کا کمایا ہوا روپیہ اور اندوختہ فسق و فجور میں ان کا معاون ہوگا اور ان کی سیاہ کاریوں کا ثواب۱ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتا رہے گا۔فرمایا۔اولاد کی آرزو کےلیے حضرت زکریا علیہ السلام کا سا دل درکار ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں اس کا ذکر کرنا اس لیے ہے کہ حضرت زکریاؑ کی دعا ولد صالح کے لیے مومنوں کے لیے اُسوہ ٹھہر جائے۔