ملفوظات (جلد 7) — Page 164
فرمایا۔قبولیت دعا حق ہے لیکن دعا نے کبھی سلسلہ موت فوت کو بند نہیں کر دیا۔تمام انبیاء کے زمانہ میں یہی حال ہوتا رہا ہے۔وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو اپنے ایمان کو اس شرط سے مشروط کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول ہو اور ہماری خواہش پوری ہو۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُ ا۟طْمَاَنَّ بِهٖ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ا۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ (الـحج:۱۲) بعض لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔اگر اس کو بھلائی پہنچے تو اس کو اطمینان ہوجاتا ہے اور اگر کوئی فتنہ پہنچے تو منہ پھیر لیتا ہے۔ایسے لوگوں کو دنیا اور آخرت کا نقصان ہے۔اور یہ نقصان ظاہر ہے۔فرمایا۔صحابہؓ کے درمیان بھی بیوی بچوں والے تھے اور سلسلہ بیماری اور موت فوت کا بھی ان کے درمیان جاری تھا۔لیکن ان میں ہم کوئی ایسی شکایت نہیں سنتے جیسے کہ اس زمانہ کے بعض نادان شکایت کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ دنیا کی محبت کو طلاق دے چکے تھے۔وہ ہر وقت مرنے کے لیے طیار تھے تو پھر بیوی بچوں کی ان کو کیا پروا تھی۔وہ ایسے امور کے واسطے کبھی دعائیں نہ کرواتے تھے اور اسی واسطے ان میں کبھی ایسی شکائتیں بھی نہ پیدا ہوتی تھیں۔وہ دین کے راہ میں اپنے آپ کو قربان کر چکے ہوئے تھے۔۱ ۲۴؍جولائی ۱۹۰۵ء صبر کی تلقین پشاور کے دو دوست پیش ہوئے۔ان کے متعلق ذکر ہوا کہ مخالفین نے ان کو بہت ہی دکھ دیا ہے۔فرمایا۔صبر کرنا چاہیے۔ایسے موقع پر صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔۲