ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 163

قائم مقام اور جانشین ہوا۔آریوں کے عقائد کا ردّ میں یہ نہیں قبول کر سکتا کہ انسان بار بار کتے بلے اور سؤر بنتا رہتا ہے۔نہ میں یہ قبول کر سکتا ہوں کہ کوئی انسان ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا۔خدا رحیم و کریم ہے۔میں اس خدا کو جانتا ہوں کہ جب انسان اس کے سامنے پاک دل کے ساتھ سچی صلح کے واسطے آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے۔جو پوری قربانی دیتا ہے اور اپنی زندگی خدا کے ہاتھ میں دے دیتا ہے خدا ضرور اسے قبول کر لیتا ہے۔بندر اور سؤر بننے کا عقیدہ تو انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔مسلمان ہونے کے یہ معنے ہیں کہ انسان اپنی تمام عملی اور اعتقادی غلطیوں سے دست بردار ہوجائے۔۱ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء ایک خواب کی تعبیر مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ میرے کپڑے کو ایسا معلوم ہوا کہ گویا آگ لگ گئی ہے پانی ڈالا تو کپڑا بالکل صاف نکل آیا گویا اس کو کچھ آنچ نہ پہنچی تھی۔فقط۔مولوی صاحب کے والد صاحب بیمار ہیں۔حضرت نے فرمایا۔ان کی صحت کی طرف اشارہ ہے۔۲ ۲۲؍جولائی ۱۹۰۵ء دعا کی حدود خاںصاحب ذو الفقار علی خاں کی زوجہ کلاں کی وفات کا ذکر آیا۔عاجز۳ کو حکم دیا کہ ہماری طرف سے ان کو تعزیت نامہ لکھ دیں کہ صبر کریں موت فوت کا سلسلہ دنیا میں لگا ہوا ہے۔صبر کے ساتھ اجر ہے۔