ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 162

خدا نخواستہ اگر اس کو دیر پا مہلت مل گئی تو پھر ساری دنیا دہریہ ہونے کو آمادہ ہوجائے گی۔سائنس کا اور مذہب کا اس وقت مقابلہ ہے۔عیسویت ایک کمزور مذہب ہے اس واسطے سائنس کے آگے فوراً گر گیا ہے لیکن اسلام طاقتور ہے یہ اس پر غالب آئے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔۱ ۶؍جولائی ۱۹۰۵ء طبعی علوم سے خدا پہچانا نہیں جا سکتا فرمایا۔جب خدا کے ساتھ انسان اپنا معاملہ درست کرتا ہے تو خدا اس پر نعمت وارد کرتا ہے ورنہ جھوٹھے پر لعنت کی مار پڑتی ہے۔جھوٹھا فلسفہ اور طبعی علوم ہمیشہ سے چلے آتے ہیں مگر ان سے خدا نہیں پہچانا جا سکتا۔خدا تعالیٰ کی صفت خلق ایک آریہ مخاطب تھا۔فرمایا۔خدا سب کا خالق ہے اور وہ ہمیشہ سے خالق ہے۔قرآن شریف سے یہی ثابت ہوتا ہے اور اسلام کا یہی مذہب ہے کہ لَمْ یَزَلْ خَالِقًا مگر اس کا خلق ہمیشہ ایک قسم کا نہیں کہ ہم کہیں انسان ہی پیدا ہوتے رہے یا بندر ہی پیدا ہوتے رہے بلکہ وہ ہمیشہ سے گونا گوں خلقت کا خالق ہے جس کی حد ہم نہیں پا سکتے۔جس طرح خالق ازلی ہے اس کی پیدائش بھی ازلی ہے۔آدم سے پہلے بھی مخلوق تھی آریہ نے سوال کیا کہ اسلام کے مطابق تو دنیا آدم سے شروع ہوئی یعنی چھ ہزار سال سے۔حضرت نے فرمایا۔یہ غلط ہے۔اسلام اور قرآن شریف کا یہ مذہب نہیں کہ دنیا چھ ہزار سال سے ہے یہ تو عیسائی لوگوں کاعقیدہ ہے مگر قرآن شریف میں تو خدا تعالیٰ نے آدمؑ کے متعلق فرمایا ہےکہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (البقرۃ:۳۱) اب ظاہر ہے کہ خلیفہ اس کو کہتے ہیںکہ جو کسی کے پیچھے آوے اور اس کا جانشین ہو جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمؑ سے پہلے بھی مخلوق تھی۔آدم اس کا