ملفوظات (جلد 7) — Page 149
پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس میں بٹھا دیا اور اس کو چکر دینا شروع کیا۔اتنے میں گھڑی گر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے۔میں کہتا ہوںکہ اس کو تلاش کرو ایسا نہ ہو کہ محمد حسین نالش کر دے۔فرمایا کہ خیال گذرتا ہے کہ شاید گھڑی سے مراد وہ ساعت ہے جو زلزلہ کی ساعت ہے جو معلوم نہیں۔واللہ اعلم۔اور وہ رحمت کی ساعت ہے یعنی یہ ساعت ہمارے واسطے رحمت الٰہی کا موجب ہوگی۔۱ بلا تاریخ۲ القول الطیب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی والدہ یہاں آئی ہوئی ہیں انہوں نے اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اور ان کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکر کیا۔خدمت والدین حضرت نے فرمایا۔والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گذر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گذر گئے اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتاہے تو اس کے تمام ھمّ و غم والدین اٹھاتے ہیں۔جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدّم رکھا ہے کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اٹھاتی ہے۔کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو ما اس کو چھوڑ نہیںسکتی۔ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہوگیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ما سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔یہ طبعی محبت ہے جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت