ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 148

نہیں ڈال سکتے۔قرآن شریف میں اِنْ اَدْرِيْۤ اَقَرِيْبٌ اَمْ بَعِيْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ (الانبیآء:۱۱۰) (مَیں نہیں جانتا کہ عذاب کے نزول کا وقت قریب ہے یا بعید) صاف بتاتا ہے کہ ہر ایک عذاب کی مقررہ تاریخ نہیں بتائی جاتی۔۱ ۲۷؍مئی ۱۹۰۵ء ایک جلیل القدر الہام عَبْدُ الْقَادِرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ۔اَرٰی رِضْوَانَہٗ اَللہُ اَکْبَـرُ۔پہلی وحی کے متعلق فرمایا کہ خدا اپنی کچھ قدرتیں میرے واسطے ظاہر کرنے والا ہے۔اس واسطے میرا نام عبد القادر رکھا۔رضوان کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ کوئی فعل دنیا میں خدا کی طرف سے ایسا ظاہر ہونے والا ہے جس سے ثابت ہو جائے اور دنیا پر روشن ہوجائے کہ خدا مجھ پر راضی ہے۔دنیا میں بھی جب بادشاہ کسی پر راضی ہوتا ہے تو فعلی رنگ میں بھی اس رضامندی کا کچھ اظہار ہوتا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی رضا پر دلالت کرنے والے افعال دیکھتا ہوں۔مومن کو اللہ تعالیٰ کی رضا بہت پیاری ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ مومنین جب بہشت میں داخل کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو تو وہ عرض کریں گے کہ اے رب! تو ہم پر راضی ہو جا۔جواب ملے گا۔اگر میں راضی نہ ہوتا تو تم کو بہشت میں کس طرح داخل کرتا۔۲ ۲۸؍مئی ۱۹۰۵ء ایک رؤیا شیخ رحمت اللہ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو کے دو پلڑے ہوتے ہیں مثل جھیوروں کے بینگی کے۔میں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں۔