ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 133

پھر سارے پیغمبر نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔یونسؑ اور اس کی قوم کا قصہ پڑھو۔آتھم تو آخر مر ہی گیا تھا مگر یونس کی قوم تو توبہ کرنے سے بالکل بچ گئی۔اگر وہ باوجود اس قدر گریہ و زاری اور خاموشی کے مرجاتا تو پھر اس میں اور لیکھرام میں کیا فرق ہوتا؟ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ شوخ میں اور غیر شوخ میں فرق کر کے دکھاوے۔۱ یکم مئی ۱۹۰۵ء سچا مسلمان ضلع مظفر گڈھ کا ایک عیسائی آپ کے ہاتھ پر توبہ کر کے مسلمان ہوا اس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔گذشتہ زندگی اور مذہب اور قوم کے طرز و طریق کے مطابق انسان میں بعض خصلتیں اور خواہشیں راسخ ہو جاتی ہیں اور بہت سے نفسانی فریب اندر ہی اندر پوشیدہ ہوتے ہیں۔سچا مسلمان وہ ہے کہ سب گندوں کی گٹھڑیاں اپنے سر سے پھینک کر اور اپنے آپ کو پاک صاف کر کے خدا کی فرمانبرداری اختیار کرے۔کوئی غرض نفسانی درمیان نہ رکھے۔رازق اللہ تعالیٰ ہے ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ہندو مسلمان ہوتے ہی کسی ملا سے ایک کاغذ لکھوا لیتے ہیں اور ان کی ساری عمر بھیک مانگنے میں گذر جاتی ہے۔ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اسلام کیا شے ہے۔مسلمان اس کو کہتے ہیں جو دنیا کے لوگوں سے منہ پھیر کر خدا کی طرف آجائے۔مسلمان کو چاہیے کہ ایسا طریق اختیار کرے جس سے نفس کی ذلّت نہ ہو۔تھوڑے پر قناعت کرلے۔اللہ تعالیٰ کو راضی رکھے۔راستی اور صراط مستقیم پر پکا قدم رکھے۔ورنہ اسلام میں آنا اس کے لیے مفید نہیں۔۲