ملفوظات (جلد 7) — Page 6
حضرت اقدس۔اب رخصت کے کتنے دن باقی ہیں؟ مفتی صاحب۔(حساب کر کے) ۱۷ دن باقی ہیں۔حضرت اقدس۔تو اب آپ کو یہ ایام یہاں ہمارے پاس ہی گذارنے چاہئیں۔حکیم نور الدین صاحب۔یہ تو آج ہی رخصت ہوتے تھے مگر رات کو میں نے رکھ لیا ہے۔حضرت اقدس۔جب رخصت ہمارے لیے لی تو پھر رخصت کے ایام ہمارے پاس ہی گذارنے چاہئیں۔عیسائی قاضی صاحب۔اتنی فرصت نہیں۔زیارت مقصود تھی سو ہوگئی۔حضرت اقدس۔ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کر کے۔اب پھر کیا صلاح ہے۔کتنے دن رہو گے؟ عیسائی قاضی صاحب نے پھر جلدی جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔حضرت اقدس۔یہ مہمان داری کے ادب کے خلاف ہے اور آپ کے ارادے کے بھی برخلاف ہے کہ اس قدر جلدی کی جاوے۔میرا ارادہ جمعرات کو سیالکوٹ جانے کا ہے تب تک رہیں۔پھر اکٹھے چلیں گے۔اس اثنا میں نماز کا وقت ہوگیا۔حضرت اقدس نے حکم فرمایا کہ ان کی خواب گاہ اور بستر اور خوراک وغیرہ کا اہتمام بہت عمدہ طور سے کر دیا جاوے کہ کوئی تکلیف نہ ہو۔اور ہر سہ صاحبان تشریف لے گئے۔دوسرے دن احمدی عمارات اور کارخانوں کو دیکھ کر رخصت ہوگئے۔۱ ٍ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۴ء ایک بیمار شخص کا ذکر ہوا۔آپ نے فرمایاکہ انسان حالت تندرستی میں صحت کی قدر نہیں کرتا (کہ ان ایام میں اپنے تعلقات اللہ تعالیٰ سے ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲