ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 119

وہی ہے۔دو بڑی دیویوں کے مندر اس جگہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر دو کو تباہ کیا اور بڑے پرانے شرک کو دنیا سے مٹا دیا۔حضرت نے فرمایا۔لوگ کہا کرتے تھے کہ خدا نے کس طرح پہاڑ کو بنی اسرائیل کے اوپر کر دیا تھا یہ قصہ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔اب کانگڑہ دھرم سالہ مقامات کے لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہوگا کہ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ (البقرۃ:۶۴) کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ذرا سے زلزلے میں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا پہاڑ اوپر آگرا پھر خدا چاہے اس کو پیچھے ہٹا دے یا اوپر گرادے۔یہ نیچریت زمانہ کے جہلاء کا جواب ہے جو خدا نے زلزلہ کے ذریعہ سے دیا ہے۔امید ہے کہ اس قدر نظارے دیکھ کر بعض خوش قسمت لوگ سمجھ جائیں گے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے اور وہ جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔زلزلہ کا نشان ایک اخبار والے کا ذکر آیا کہ وہ لکھتا ہے زلزلے تو آیا ہی کرتے ہیں۔اس میں مرزا صاحب کا کیا نشان ہوا۔فرمایا۔یہ لوگ نابینا ہیں۔نشان تو اس بات میں ہے کہ عین موقع پر ایک شخص نے قبل از وقت پیشگوئی کی اور دکھایا کہ یہی وقت ہے۔خیر سب اندھے نہیں ہیں۔سمجھنے والے سمجھ لیں گے کہ یہ کس قسم کا نشان ہے۔ہزاروں برسوں کے جو معبد اور بت چلے آتے تھے وہ اب سر نگوں ہوگئے ہیں۔یہ نشان نہیں تو اور کیا ہے؟ فرمایا۔ان بتوں کا ٹوٹنا خدا تعالیٰ کی اس توحید کے قائم ہونے کے واسطے جس کے لیے ہم رات دن دعائیں کرتے ہیں ایک تفاؤل ہے۔فرمایا۔اس الہام سے بھی جو ہم کو ہوا تھا کہ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بت ٹوٹنے والے ہیں کیونکہ قرآن شریف میں بھی یہ آیت بتوں کے ٹوٹنے اور اسلام کے غلبہ کے واسطے آئی ہے۔فرمایا۔براہین احمدیہ بڑی کام آئی۔وہ سب پہلوؤں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔کوئی نیا الزام اور ظن ایسا نہیں جس کا جواب پہلے سے اس کے اندر نہ دیا گیا ہو۔