ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 118

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو حفاظت میں رکھے۔۱ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء ایک عارفانہ دعا کثرت زلازل اور تباہیوں کا ذکر تھا۔فرمایا۔ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظاہر ہوجائے کہ نبی کریم برحق رسول تھے اور خدا کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہوجائے۔خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آجائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہوجائے۔جماعت کا مستقبل آج رات کے الہام اِنَّ فِرْعَوْنَ۔۔۔۔الـخ کا ذکر تھا۔فرمایا۔فرعون اور اس کے ساتھی تو یہ یقین کرتے تھے کہ بنی اسرائیل ایک تباہ ہوجانے والی قوم ہے اور اس کو ہم جلد فنا کر دیں گے۔پر خدا نے فرمایا کہ وہ ایسا خیال کرنے میں خطا پر تھے۔ایسے ہی اس جماعت کے متعلق مخالفین و معاندین کہتے ہیں کہ یہ جماعت تباہ ہو جائے گی مگر خدا کا منشا کچھ اور ہے۔فحاشی عذاب کا موجب ہے کانگڑہ کے متعلق بہت تباہی کا ذکر تھا۔مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ اس جگہ فحش بہت تھا۔فرمایا۔اسی واسطے وہاں عذاب بھی بہت ہوا۔۲ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۵ء کانگڑہ کی تباہی وحی الٰہی عَفَتِ الدِّیَارُ کا ذکر تھا حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ اَلدِّیَارُ سے مراد کانگڑہ ویلی ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ شرک کا بڑا مکان ان دنوںمیں