ملفوظات (جلد 7) — Page 114
انہوں نے عرض کی کہ حضور کے قدموں میں حاضری نصیب ہو تو پھر تکلیف کس بات کی۔یہاں تو جو ہو سب راحت ہی راحت ہے۔حضرتؑ نے فرمایا۔ہاں رحمت الٰہی کے دن ہیں۔گو دوسروں کے واسطے عذاب کے دن ہیں مگر ہمارے واسطے نصرۃ الحق کے ایام ہیں۔۱ ۷؍اپریل ۱۹۰۵ء قادیان دارالامان مختلف مقامات سے نہایت سخت تباہی اور سینکڑوں آدمیوں کے دب جانے اور مر جانے اور ہزاروں مکانات کے گر جانے اور زمینوں کے دھس جانے کا ذکر ہو رہا تھا۔بالمقابل اس کے قادیان میں جو امن رہا اس کے متعلق حضرت نے فرمایا کہ اس میں وہ وحی الٰہی بھی پوری ہوئی جو مدت ہوا اخباروں میں شائع ہوئی تھی کہ امن است در مقام محبت سرائے ما ان تباہیوں اور شہروں کے دبنے سے وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی جس کو گیارہ ماہ ہوئے کہ شائع ہوئی تھی اور گورداسپور میں نازل ہوئی تھی کہ عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَ مَقَامُھَا یعنی سرائیں بھی تباہ ہوگئیں اور اصلی مقامات بود و باش بھی مٹ گئے اور ان کے نشان بھی مٹ گئے۔باغ کے مکان میں منتقل ہونا قادیان کے گاؤں سے بعض آدمیوں کے طاعون میں مبتلا ہونے اور بعض کے مرنے کا ذکر ہوا۔حضرت نے فرمایا۔خدا جانے ہمارے باہر آجانے میں کیا کیا حکمتیں ہیں اگر قادیان میں سو آدمی روز طاعون سے مرنے لگتا تب بھی ہم نے قادیان سے نہیں نکلنا تھا مگر اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایسی نئی بات پیدا ہوگئی یعنی سخت زلزلہ کے سبب سہ منزلہ مکانات کے گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس واسطے بموجب پابندی شریعت اپنے آپ کو خطرناک جگہ سے محفوظ کرنے کے