ملفوظات (جلد 7) — Page 112
دوم اشتہار الوصیت میں جو ایک عظیم الشان پیشگوئی حضرت امامؑ نے ابھی چند روز ہوئے شائع کی تھی کہ ایک شور قیامت برپا ہے اور موتا موتی لگی ہوئی ہے اور لوگ چیخ رہے ہیں۔وہ پوری ہوئی۔یہ اشتہار الوصیت اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۵ء اور اخبار البدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء اور ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مارچ ۱۹۰۵ء میں شائع ہو گیا تھا۔اس زلزلہ کی خبر براہین احمدیہ میں بھی دی گئی تھی۔غرض یہ ایک بڑا نشان ہے جو خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔اسی زلزلہ کا ذکر تھا حضرتؑنے فرمایا کہ یہ ایک قیامت ہے جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ اب دیکھ لیں کہ کس طرح ایک ہی سیکنڈ میں ساری دنیا فنا ہو سکتی ہے۔جب لوگوں کو بہت امن اور آسودگی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ خدا سے اعراض کرتے ہیں یہاں تک کہ خدا کا انکار کر دیتے ہیں۔اس قسم کا امن ایک خباثت کا پھوڑا ہے۔یہ قیامت لوگوں کے واسطے عذاب مگر ہمارے واسطے مفید ہے۔پھر آپ نے سلطان احمد کو دیکھنے والا رؤیا بیان کیا جو الہامات کے ذیل میں درج کیا گیا ہے۔اور میاں بشیر احمد اور شریف احمد کے خوابوں کا پھر ذکر کیا۔اور براہین احمدیہ کے حصہ پنجم کے چھپنے کا ذکر کیا جس کا نام نصرت الحق ہے اور فرمایا۔یہ قیامت ہمارے لیے نصرت الحق ہے۔ہم صبح یہی مضمون لکھ رہے تھے اور اس الہام پر پہنچے تھے جو براہین احمدیہ میں درج تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کردے گا۔ہم یہ الفاظ لکھ ہی رہے