ملفوظات (جلد 7) — Page 110
طاعون کو بھی نارِ جہنم کہا ہے۔پہلے بھی ایک الہام ہوا تھا یَـاْتِیْ عَـلٰی جَــــھَـــنَّـــمَ زَمَـــانٌ لَــــیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ۔اس کے بعد آپ نے نماز ظہر جماعت کے ساتھ معمول کے موافق ادا کی اور آپ تشریف لے گئے۔۱ ۳؍اپریل ۱۹۰۵ء محبین سے تعلق خاطر سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے تقرر مستقل بر عہدہ سپرنٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع کی خبر حضرت کی خدمت میں سنائی گئی۔آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ شاہ صاحب ایک درویش مزاج آدمی ہیں اور خدا ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب کی علالت طبع کا ذکر تھا حضرت نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی ہے جس کی حد نہیں۔۲ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء ایک زور آور زلزلہ کا نشان صبح۴ ۱ ۶ بجے یک دفعہ نہایت زور آور حملہ زلزلہ کا ہوا۔تمام مکانات اور اشیاء ہلنے اور ڈولنے لگ پڑیں۔لوگ حیران اور سراسیمہ ہو کر گھبرانے لگے۔ایسے وقت میں خدا کے مسیح کا حال دیکھنے کے لائق تھا کیونکہ احادیث میں تو ہم پڑھا ہی کرتے تھے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آسمانی اور زمینی واقعات پر خشیت اللہ کا بڑا اثر