ملفوظات (جلد 7) — Page 97
کرو گے تو انشاء اللہ یقیناً ایک نہ ایک دن کامیاب ہو جاؤ گے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی کو مقدم کرو اور دین کو دنیا پر ترجیح دو۔جب تک انسان اپنے اندر دنیا کا کوئی حصہ بھی پاتا ہے وہ یاد رکھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں کہ دین کا نام بھی لے۔یہ بھی ایک غلطی لوگوں کو لگی ہوئی ہے کہ دنیا کے بغیر دین حاصل نہیں ہوتا۔انبیاء علیہم السلام جب دنیا میں آئے ہیں کیا انہوں نے دنیا کے لیے سعی اور مجاہدہ کیا ہے یا دین کے لیے؟ اور باوجود اس کے کہ ان کی ساری توجہ اور کوشش دین ہی کے لیے ہوتی ہے۔پھر کیا وہ دنیا میں نامراد رہے ہیں؟ کبھی نہیں۔دنیا خود ان کے قدموں پر آ کر گری ہے۔یہ یقیناً سمجھو کہ انہوں نے دنیا کو گویا طلاق دے دی تھی۔لیکن یہ ایک عام قانون قدرت ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں۔اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہوجاتی ہے۔جو لوگ برخلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں مگر آخر ذلیل ہوتے ہیں۔سچی خوشی اور اطمینان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عطا ہوتا ہے۔یہ مجرد دنیا کے حصول پرمنحصر نہیں ہے۔اس لیے ضروری امر ہے کہ ان اشیاء کو اپنا معبود نہ ٹھہراؤ۔اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اسی کو یگانہ و یکتا معبود سمجھو۔جب تک انسان ایمان نہیں لاتا کچھ نہیں۔اور ایسا ہی نماز روزہ میں اگر دنیا کو کوئی حصہ دیتا ہے تو وہ نماز و روزہ اسے منزل مقصود تک نہیں لے جا سکتا۔بلکہ محض خدا کے لیے ہو جاوے۔اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الانعام:۱۶۳) کا سچا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا۔ابراہیم کی طرح صادق اور وفادار ہونا چاہیے۔جس طرح پر وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوگیا اسی طرح انسان ساری دنیا کی خواہشوں اور آرزوؤں کو جب تک قربان نہیں کردیتا کچھ نہیں بنتا۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو ایک جذبہ پیدا ہو جاوے اس وقت اللہ تعالیٰ خود اس کا متکفل اور کارساز ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ پر کبھی بد ظنی نہیں کرنی چاہیے اگر نقص اور خرابی ہوگی تو ہم میں ہوگی۔