ملفوظات (جلد 6) — Page 88
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۸ جلد اگر جسمانی طور پر کھڑے ہو تو دل بھی خدا کی اطاعت کے لیے ویسے ہی کھڑا ہوا گر جھکو تو دل بھی ویسے ہی جھکے اگر سجدہ کرو تو دل بھی ویسے ہی سجدہ کرے دل کا سجدہ یہ ہے کہ کسی حال میں خدا کو نہ چھوڑے جب یہ حالت ہوگی تو گناہ دور ہونے شروع ہو جاویں گے معرفت بھی ایک شے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار ، سانپ اور شیر کو ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا ایسے ہی جب تم کو معرفت ہوگی تو تم گناہ کے نزدیک نہ پھٹکو گے اس کے لیے ضروری ہے کہ یقین بڑھا بڑھاؤ اور وہ دعا سے بڑھے گا اور نماز خود دعا ہے نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہو سکتی بڑے بڑے حکیموں نے خدا کو اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی نظر مصنوعات پر رہی اور دعا کی طرف توجہ نہ کی جیسا کہ ہم نے براہین میں ذکر کیا ہے مصنوعات سے تو انسان کو ایک صانع کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ایک فاعل ہونا وو چاہیے لیکن یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ ہے بھی۔ ” ہونا چاہیے اور شے ہے اور ” ہے اور شے ہے۔ اس ” ہے 66 کا علم سوائے دعا کے نہیں حاصل ہوتا ، عقل سے کام لینے والے ” ہے“ کے علم کو نہیں پاسکتے ، اس لیے ہے خدارا بخدا تو ان شناخت ۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : (۱۰۴) کے یہی معنے ہیں کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جا سکتا بلکہ خود جو ذریعے (اس) نے بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس امر کے لیے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة:1) جیسی اور کوئی دعا نہیں ہے۔ بھائی کی غلطی دیکھ کر اس کے لئے دعا کرو صلاح تقوی ، نیک بختی اور اخلاقی اپنے بھائی حالت کو درست کرنا چاہیے مجھے اپنی جماعت کا یہ بڑا غم ہے کہ ابھی تک یہ لوگ آپس میں ذراسی بات سے چڑ جاتے ہیں عام مجلس میں کسی کو احمق کہہ دینا بھی بڑی غلطی ہے اگر اپنے کسی بھائی کی غلطی دیکھو تو اس کے لیے دعا کرو کہ خدا اسے بچا لیوے یہ نہیں کہ منادی کرو جب کسی کا بیٹا بد چلن ہو تو اس کو سر دست کوئی ضائع نہیں کرتا بلکہ اندر ایک گوشہ میں سمجھاتا ہے کہ یہ برا کام ہے اس سے باز آجا۔ پس جیسے رفق حلم اور ملائمت سے